پورٹ ویلا: جنوبی بحرالکاہل کے ملک وانواتو میں ایک فیری خراب سمندری موسم کے دوران ڈوب گئی جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 30 سے زائد افراد لاپتا ہوگئے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں مزید زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وانواتو کے حکام اور مقامی رپورٹس کے مطابق ایم وی ماتوی نامی فیری میں 34 مسافروں اور 11 عملے کے ارکان سمیت 45 افراد سوار تھے۔ یہ فیری جمعہ کو امبائے اور سانتو جزیروں کے درمیان سفر کے دوران ڈوب گئی۔ اب تک 15 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے جبکہ ایک شخص کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے ابتدا میں اس مقام کے اطراف کھلے سمندر میں تلاش کی جہاں فیری ڈوبی تھی۔ تاہم حکام اب کھلے سمندر میں تلاش محدود کرکے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں پر توجہ مرکوز کررہے ہیں کیونکہ سمندری لہریں اور پانی کے بہاؤ لاپتا افراد کو ساحل کی جانب لے گئے ہوسکتے ہیں۔
مقامی آبادی سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ساحلی علاقوں پر نظر رکھے اور کسی ممکنہ زندہ بچ جانے والے شخص کی موجودگی کی صورت میں ریسکیو ٹیموں کی مدد کرے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک شخص مشکل حالات میں تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا، جبکہ دیگر افراد کی تلاش کے لیے کشتیاں اور طیارے بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔
وانواتو کی حکومت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے میں تیز ہواؤں اور سمندری موسم سے متعلق انتباہات پر عمل نہ کیے جانے کا کردار ہوسکتا ہے۔ حکومت نے فیری پر ممکنہ حد سے زیادہ افراد سوار کیے جانے سمیت غفلت کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔
تلاش اور امدادی کارروائیوں میں بین الاقوامی مدد بھی شامل ہے۔ نیو کیلیڈونیا میں قائم میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر اور فرانسیسی فوجی طیاروں نے بھی امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کی ہے جبکہ مقامی ٹیمیں ساحلی علاقوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وانواتو جنوبی بحرالکاہل میں واقع ایک جزیرہ ملک ہے جہاں مختلف جزیروں کے درمیان آمدورفت کے لیے فیری اور دیگر بحری جہاز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حادثے نے خراب موسم میں بحری سفر اور مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات کو دوبارہ اجاگر کردیا ہے۔
لاپتا افراد کے خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کا کھلے سمندر سے ساحلی علاقوں کی جانب رخ کرنا تلاش کے ایک اہم مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے اور آنے والے گھنٹے مزید زندہ بچ جانے والوں کی امید کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔





