ویب ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے ردعمل میں پیر کے روز بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ 90.31 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 85.41 ڈالر ہو گئی۔ خلیج فارس کی بحری گزرگاہوں پر بڑھتے سیکیورٹی خدشات کے باعث مشرق وسطیٰ کے برآمدی تیل کی قیمتوں میں مزید بھی تیز اضافہ دیکھا گیا، جہاں دبئی کے فلیگ شپ موربان کروڈ کی قیمت چار فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 95.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
مارکیٹ میں اس تیزی کی وجہ ایک ماہ بعد ایرانی اہداف پر امریکی افواج کے پہلے براہ راست حملے بنے، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر واقع دو میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ لانچرز جہاز شکن سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔ تہران نے جواب میں اردن میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل داغے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن ان حملوں کا جواب دے گا، جس سے چھ ماہ سے جاری اس تنازع کے مزید وسیع ملٹری تصادم میں تبدیل ہونے کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔
جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جو کہ دنیا کے تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرنے والی اہم گزرگاہ ہے۔ اگرچہ اس آبی راستے کو باقاعدہ طور پر بند نہیں کیا گیا، لیکن سیکیورٹی خدشات اور جنگی خطرات کے بڑھتے ہوئے انشورنس پریمیم کے باعث ٹینکر مالکان، انشورنس کمپنیوں اور بحری آپریٹرز نے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی کم کر دی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر نیا دباؤ ڈال دیا ہے۔ امریکہ میں شیئر مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی، کیونکہ توانائی کی وجہ سے مسلسل بڑھتی مہنگائی نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں جلد اضافے سے متعلق سرمایہ کاروں کی توقعات بڑھا دیں۔ آنے والے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ منگل کو مقامی آئل ریفائننگ کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس کریں گے۔



