کٹھمنڈو: نیپال میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں جبکہ حکام نیپال تبت سرحد پر گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے بعد لاپتا ہزاروں افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نیپالی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ سیلاب کے باعث کم از کم 903 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 4,247 افراد کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ سرحد کے دوسری جانب تبت کی ژیرونگ کاؤنٹی میں چینی حکام نے 16 ہلاکتوں اور 546 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تبت میں لاپتا ہونے والوں میں سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب سلسلہ کوہ ہمالیہ میں لانگ تانگ لیرونگ کے قریب گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے میں برف، چٹانوں اور ملبے کی بڑی مقدار لَینڈے دریا میں جا گری، جس کے بعد یہ نیپال کے رسووا، نواکوٹ اور دھادِنگ اضلاع سے گزرتا ہوا تباہی مچاتا آگے بڑھ گیا۔
متاثرہ ندیوں کے کنارے واقع ہائیڈرو پاور کے منصوبے اس وقت امدادی کارروائیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ نیپال کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے تخمینے کے مطابق لاپتا افراد میں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے 933 کارکن شامل ہیں۔ خدشہ ہے کہ متعدد ورکرز کیچڑ اور چٹانوں کے نیچے دبی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
امدادی ٹیموں کی تمام تر توجہ 'تریشولی 3A' اور '3B' ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر مرکوز ہے، جہاں بند راستوں کو کھولنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
تریشولی 3A پروجیکٹ پر ٹیموں نے جمع شدہ ملبے میں سوراخ کیے ہیں، سرنگ میں تازہ ہوا فراہم کی ہے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے کیمرے داخل کیے ہیں۔ متاثرہ سرنگوں سے تقریباً 300 ورکرز کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
آفت کی وسیع پیمانے پر شدت اور پیچیدگی کے باعث بین الاقوامی امداد طلب کی گئی ہے۔ چین نے 2,100 سے زائد امدادی اہلکار روانہ کیے ہیں اور مالی و لوجسٹک معاونت فراہم کی ہے، جبکہ بھارت نے سرنگوں میں نجات کی تربیت یافتہ فوجی اہلکار، فارنزک ماہرین اور ہنگامی سامان بھیجا ہے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ، ریڈ کراس، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے بھی امداد پہنچائی گئی ہے۔ تاہم ہمالیہ کا دشوار گزار علاقہ، خراب موسم اور ندیوں میں پانی کی بڑھتی سطح امدادی سرگرمیوں میں مسلسل رکاوٹ بن رہی ہے۔
اس آفت کے باعث بننے والی دو عارضی جھیلوں نے نشیبی علاقوں میں مزید سیلاب کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ نیپالی حکام نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی انتہائی تشویشناک ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے اور تباہی کا پورا تخمینہ لگانے کے لیے وقت کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔





