کوالالمپور: انڈونیشیا کے جنگلات اور دلدلی زمینوں میں لگنے والی شدید آگ سے اٹھنے والے دھوئیں نے ملائیشیا اور پڑوسی ممالک کے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور سانس کی بیماریوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
ملائیشیا کی ریاست سراواک سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں کوچنگ اور سریان میں ایئر کوالٹی انڈیکس 400 سے تجاوز کر گیا ہے۔ حکام کے نزدیک 100 سے زائد انڈیکس کو غیر صحت بخش جبکہ 300 سے اوپر کی سطح کو انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
طویل عرصے سے جاری زہریلی دھند نے پورے خطے میں معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ سراواک میں سیکڑوں اسکول عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں جس سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کھلی جگہوں پر سرگرمیاں اور کھیلوں کے مقابلے بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔
ملائیشیا کی وزارتِ صحت کے مطابق دمہ کے کیسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 16 سے 22 اگست کے ہفتے کے دوران 219 سے بڑھ کر 23 سے 29 اگست کے درمیان 1,811 ہو گئے۔ اسی عرصے کے دوران آنکھوں کی سوزش (کنجنکٹیوائٹس) کے کیسز بھی تیزی سے بڑھے ہیں۔
انڈونیشیا کو ان آتشزدگیوں سے مزید شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طبی حکام نے بتایا کہ جولائی اور اگست کے دوران سانس کے انفیکشن میں مبتلا تقریباً 13 ہزار 500 افراد کا علاج کیا گیا، جبکہ بورنیو اور سوماترا کے لگ بھگ 55 لاکھ رہائشی اس دھوئیں سے متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جولائی کے درمیان پورے انڈونیشیا میں 2 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا، جس میں سے تقریباً آدھا رقبہ صرف جولائی کے مہینے میں تباہ ہوا۔
مغربی کلیمانتان میں آگ کے واقعات خصوصاً شدت اختیار کیے ہوئے ہیں جہاں ہزاروں مقامات پر آگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ پالانگکارایا اور پونٹیانک سمیت دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر آگ باغات اور چھوٹے کسانوں کی جانب سے زمین کو صاف کرنے کے طریقوں، خصوصاً کاربن سے بھرپور دلدلی علاقوں کو صاف کرنے کے باعث لگتی ہے۔ انڈونیشیائی حکام نے عمداً آگ لگانے کے شبہے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے شدت اختیار کرتے اثرات جنوب مشرقی ایشیا میں مزید گرم اور خشک موسم پیدا کر کے آتشزدگی کے موسم کو طویل کر سکتے ہیں۔ دلدلی زمینوں کی آگ بجھانا بالخصوص مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ زیرِ زمین ہفتوں تک دہکتی رہتی ہے۔
واضح رہے کہ جب تک مسلسل بارشیں آگ کو بجھانے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد نہیں کرتیں، تب تک زہریلی دھند کا یہ علاقائی خطرہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔





