اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے ہفتے کو پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سے پہلے تین ہزار پاکستان رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی میں دس روز کی توسیع کی درخواست کردی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق، چیف کمشنر کے دفتر سے جاری خط میں اسلام آباد پولیس کے لیے رینجرز اہلکاروں اور ان کے کمانڈ ڈھانچے کی فراہمی پانچ سے ۱۵ اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ نے موجودہ تعیناتی کی اجازت ۲۰ ستمبر سے پانچ اکتوبر تک دی تھی۔ تازہ خط اضافی مدت کی درخواست ہے، توسیع کی منظوری نہیں۔
پی ٹی آئی نے چار اکتوبر کو دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔ انتظامیہ نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کی تیاریوں کے تحت سیکڑوں کنٹینرز رکھے ہیں۔ پنجاب اور سندھ پولیس کے اضافی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
سابقہ نوٹیفکیشن میں رینجرز کی تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس، ۱۹۵۹ کی دفعات سات کی شق بی اور دس، اور انسداد دہشت گردی ایکٹ، ۱۹۹۷ کی دفعات چار اور پانچ کے تحت منظور کی گئی تھی۔
اس اجازت کے تحت اہلکار اسلام آباد کے چیف کمشنر یا صوبائی حکومت کی جانب سے مجاز قرار دیے گئے قانونی فرائض انجام دے سکتے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی پیش آنے والے خطرات یا پُرتشدد سرگرمیوں کے خلاف متعلقہ قواعد کے مطابق اپنے دفاع میں مناسب کارروائی کی اجازت بھی دی گئی تھی۔
وزارت داخلہ نے الگ ہدایات میں کہا کہ مسلح اور خلل ڈالنے والے گروہوں کے حملوں کی صورت میں رینجرز اور پولیس اپنے دفاع میں ضروری کارروائی کریں اور پُرتشدد سرگرمیوں سے نمٹیں۔
دارالحکومت میں پُرامن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ، ۲۰۲۴ کے تحت اجتماعات پر بھی پابندی ہے۔
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی جانب مارچ اور سڑکیں بند کرنے سے خبردار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو تصادم کی طرف بڑھنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے ایسے احتجاج کے مستقل حل کا عندیہ دیا ہے۔





