کراچی: اسلام آباد میں تحریک انصاف کا چار اکتوبر کا مارچ روکنے کی تیاریوں سے کراچی کی مال برداری متاثر ہو رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق گاڑیاں ضبط ہونے کے خدشے سے ٹرانسپورٹرز شمال کی جانب سفر سے گریز کر رہے ہیں، جس کے باعث بندرگاہ پر کنٹینرز جمع ہو رہے ہیں۔
دارالحکومت کے سیاسی تنازع کے معاشی اثرات تقریباً چودہ سو کلومیٹر دور پاکستان کی اہم تجارتی بندرگاہ تک پہنچ گئے ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پولیس گاڑیاں تحویل میں لے کر ان کے کنٹینرز اسلام آباد کی ناکہ بندی کے لیے استعمال کرتی ہے۔
کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق حکام نے تقریباً پانچ ستمبر سے گاڑیاں روکنا شروع کردی تھیں، جبکہ مارچ کی ابتدائی تاریخ ستائیس ستمبر تھی۔
ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ ستمبر میں دو ہزار سے زیادہ گاڑیاں تحویل میں لی گئیں۔ بعض مال سے لدے ٹرک کئی دن روکے گئے اور معاوضہ بہت کم ملا یا بالکل نہیں دیا گیا۔
اسلم نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ احتجاج روکنے کا یہ طریقہ درست نہیں۔
ان کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، پشاور اور اٹک جانے والے راستے متاثر ہیں۔ بعض آپریٹرز گوجرانوالہ سے آگے جانے سے انکار کر رہے ہیں، جبکہ دیگر متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔
نقصان صرف ترسیل رکنے تک محدود نہیں۔ اسلم کے مطابق ایک متاثرہ کنٹینر پر روزانہ تاخیر کے واجبات تیس ہزار سے چالیس ہزار روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ڈرائیوروں کی تنخواہوں اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی جاری ہیں، جبکہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں ادائیگی کا تقاضا کرتی ہیں۔
یہ دباؤ ایسے وقت میں بڑھا ہے جب ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر میں ٹرانسپورٹ قیمتوں کا اشاریہ سالانہ بنیاد پر ستائیس اعشاریہ تینتالیس فیصد بڑھا۔
عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ مارچ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن نے جمعہ کو ابتدائی مذاکرات کیے اور ہفتے کو دوبارہ بات چیت پر اتفاق کیا، تاہم احتجاج کی کال برقرار رہی۔
وفاقی وزارتوں، پنجاب پولیس اور صوبائی محکمہ داخلہ نے رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ اسلم کے مطابق شکایات حل نہ ہوئیں تو ٹرانسپورٹرز اپنا احتجاج بھی کرسکتے ہیں۔





