واشنگٹن: وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے، ہفتے کے روز تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی اپنی تجویز پر واشنگٹن کے سرکاری جواب کا منتظر تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو نیویارک میں بتایا کہ قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو بھیجی گئی اس تجویز کے نتیجے میں سات دنوں کے اندر اس اہم ترین سمندری گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور پورے خطے میں کشیدگی کو روکا جا سکتا ہے۔
”اگر امریکہ معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں سنجیدہ ہے تو اب تمام تر تیاریاں مکمل ہیں،“ عراقچی نے صحافیوں کو بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معاہدے کے بعد وسیع تر مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بھی شامل ہو سکتی ہے۔
عراقچی کے مطابق، تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں روک دے گا۔ اس کے بدلے امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرے گا، منجمد ایرانی فنڈز واگزار کرے گا اور تیل پر عائد پابندیاں اٹھا لے گا۔
ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر واشنگٹن اس تجویز کو قبول بھی کر لے تب بھی تہران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی پر اپنے موقف پر قائم رہے گا اور شدید افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے پر رضامند نہیں ہو گا۔
اہلکار نے یہ بھی کہا کہ جب تک ایران کی تمام شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ یہ سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے جو تنازع کے باعث زیادہ تر بند پڑی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نجی طور پر اس بات پر شکوک و شبہات کا شکار تھے کہ ایران امریکی مطالبات پورے کرے گا، اور انہوں نے عملے سے کہا تھا کہ بمباری کی نئی مہم کا امکان ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔
نیویارک میں سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ اپنے تنازع کے حل کے لیے اب بھی تیار ہے لیکن اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ثابت کرے کہ اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہے۔
اس تنازع کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جس کے بعد سے پورے خطے میں حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی و سعودی مفادات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے خلاف حملے کیے ہیں۔
ہفتے کے روز سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد نے بتایا کہ اس نے ریاض کی طرف بھیجے گئے دو ڈرونز اور خمیس مشیط کو نشانہ بنانے والے ایک بیلسٹک میزائل کو راستے میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
شدت پسندی کے اس اضافے نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سیکیورٹی کے باہمی رابطوں کو بھی مزید فعال کر دیا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی حکام نے جمعے کو ریاض میں ملاقات کی، جس میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے مشترکہ دفاعی معاہدوں کے تحت انٹیلی جنس تعاون، عسکری ہم آہنگی اور افواج کے انضمام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔





