نئی دہلی: بھارت کی نوجوانوں کی ’’کاکروچ‘‘ تحریک کے سینکڑوں حامیوں نے جمعے کو نئی دہلی اور ممبئی میں احتجاج کرتے ہوئے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
مظاہروں میں طلبہ اور سول سوسائٹی کے گروہوں نے شرکت کی۔ احتجاج ایسے وقت ہوا جب الیکشن کمیشن کو ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔
نئی دہلی میں پولیس نے مظاہرین کو احتجاج کے لیے مختص مقام جنتر منتر پر جمع ہونے سے روک دیا۔ علاقے میں رکاوٹیں لگائی گئیں اور وہاں جانے والے درجنوں مظاہرین کے ساتھ بعض اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا۔
بھارت کے مالیاتی مرکز ممبئی میں بھی تحریک کے حامیوں نے مظاہرہ کیا، جس سے احتجاجی مہم دارالحکومت سے باہر بھی پھیل گئی۔
یہ تحریک ابتدا میں آن لائن مہم کے طور پر سامنے آئی تھی، جس کے بعد اس نے خود کو کاکروچ جنتا پارٹی کا نام دیا اور سڑکوں پر احتجاج شروع کیا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس کے پہلے مظاہروں کے نتیجے میں جولائی میں بھارتی وزیر تعلیم نے استعفیٰ دیا تھا۔
تازہ احتجاج کا مرکز انتخابی فہرستوں میں تبدیلیاں ہیں، جن کی بنیاد پر شہریوں کا ووٹ ڈالنے کے لیے اندراج ہوتا ہے۔
ناقدین اور اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ الیکشن کمیشن وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر رجسٹریشن میں ردوبدل کررہا ہے۔ یہ الزامات کمیشن کے ناقدین سے منسوب ہیں۔
جمعے کے مظاہروں نے ملک بھر میں انتخابات کی نگرانی کرنے والے ادارے پر دباؤ بڑھایا، جبکہ مظاہرین نے اس کی قیادت سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔





