اسلام آباد: عمران خان پانچ اکتوبر کو چوہتر برس کے ہو گئے۔ کرکٹ کے میدان میں پاکستان کو عالمی چیمپئن بنانے سے لے کر کینسر کے علاج اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے قیام تک، ان کی زندگی کے کئی نمایاں پہلو ہیں۔
پانچ اکتوبر انیس سو باون کو پیدا ہونے والے عمران خان نے انیس سو اکہتر میں بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا۔ تیز رفتار بولنگ اور مؤثر بیٹنگ نے انہیں ممتاز آل راؤنڈرز میں شامل کیا، یعنی ایسے کھلاڑی جو گیند اور بلے دونوں سے ٹیم کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کے کھیل کی سب سے بڑی کامیابی انیس سو بانوے میں سامنے آئی، جب ان کی قیادت میں پاکستان نے آسٹریلیا میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں تین سو باسٹھ اور ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں ایک سو بیاسی وکٹیں حاصل کیں۔ دو ہزار نو میں انہیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
کرکٹ سے آگے ان کے فلاحی سفر کی بنیاد ایک ذاتی صدمہ بنا۔ ان کی والدہ شوکت خانم انیس سو پچاسی میں کینسر سے انتقال کر گئی تھیں۔ والدہ کی بیماری اور علاج کا خرچ برداشت نہ کر سکنے والے مریضوں کی مشکلات نے انہیں کینسر کے خصوصی اسپتال کے قیام کی طرف مائل کیا۔
اسپتال کے لیے چندہ جمع کرنے میں بیرون ملک پاکستانیوں، مقامی عطیہ دہندگان اور اسکول کے بچوں نے حصہ لیا۔ ادارے کے مطابق ’’عمرانز ٹائیگرز‘‘ کے نام سے بچوں نے گھر گھر اور ٹریفک سگنلز پر عطیات جمع کیے۔ ورلڈ کپ کی فتح نے اس مہم کو مزید تقویت دی۔
لاہور میں شوکت خانم اسپتال انتیس دسمبر انیس سو چورانوے کو کھلا۔ پشاور میں دوسرا اسپتال انتیس دسمبر دو ہزار پندرہ کو قائم ہوا، جس سے کینسر کے علاج کی خدمات کا دائرہ بڑھا۔
تعلیم کے شعبے میں میانوالی کا نمل ادارہ ایک اور اہم قدم تھا۔ مقامی آبادی اور عطیہ دہندگان کی مدد سے دو ہزار آٹھ میں قائم ہونے والا کالج ابتدا میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈفورڈ سے منسلک تھا۔ دو ہزار انیس میں اسے اپنی ڈگریاں جاری کرنے کا اختیار ملا۔
ان کی سالگرہ ان کامیابیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جن میں ذاتی عزم کے ساتھ عوامی تعاون، عطیات اور ماہرین کی محنت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔





