اسلام آباد: پاکستان نے محمد علی ’مو‘ نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو مارچ 2027 میں ہونے والے 99ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے اپنی باضابطہ انٹری کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔ یہ اس کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہونے والی پہلی دستاویزی فلم ہے۔
نقوی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کو انہوں نے بلال سمیع کے ساتھ مل کر تحریر اور پروڈیوس بھی کیا ہے۔ فلم اگست 2023 میں بٹگرام میں پیش آنے والے کیبل کار واقعے پر مبنی ہے، جس میں چھ اسکول کے بچوں سمیت آٹھ افراد کیبل ٹوٹنے کے بعد دوران سفر پھنس گئے تھے۔
مسافر ایک کھائی سے تقریباً 900 فٹ کی بلندی پر معلق رہے، جبکہ حکام اور مقامی امدادی کارکن انہیں بحفاظت نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
دستاویزی فلم میں انٹرویوز، جائے وقوعہ پر ریکارڈ کی گئی فوٹیج اور واقعے میں شامل افراد کے ساتھ مناظر کی دوبارہ عکس بندی شامل ہے۔ فلم علاقے میں ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیتی ہے، جہاں پہاڑی علاقوں کو عبور کرنے کے لیے مقامی آبادی کیبل کاروں کا استعمال کرتی ہے۔
’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کا پریمیئر 2026 کے سنڈینس فلم فیسٹیول میں ہوا، جس کے بعد اسے مختلف بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں بھی پیش کیا گیا۔ پاکستان، امریکا اور برطانیہ کی مشترکہ پروڈکشن میں ایور ونڈر اسٹوڈیو، یونیورسل پکچرز کانٹینٹ گروپ، مائنڈ ہاؤس اور 64th اسٹریٹ میڈیا شامل ہیں۔
فلم کو دی نیویارک ٹائمز کی اکتوبر میں اسٹریمنگ کے لیے دستیاب فلموں اور ٹی وی پروگرامز کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے اکیڈمی ایوارڈز کے انتخابی عمل سے قبل اسے مزید بین الاقوامی توجہ ملی ہے۔
پاکستان نے پہلی بار 1959 میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے فلم جمع کرائی تھی۔ اب تک کسی پاکستانی فلم کو اس کیٹیگری میں آسکر نامزدگی نہیں ملی، تاہم صائم صادق کی ’جوائے لینڈ‘ 2023 کے اکیڈمی ایوارڈز کے لیے 15 فلموں کی شارٹ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔
99ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب 14 مارچ 2027 کو منعقد ہوگی، جبکہ نامزدگیوں کا اعلان 21 جنوری کو کیا جائے گا۔





