لاہور: خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج پر اختلاف نے تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی رابطوں کو پیچیدہ کردیا ہے۔ دونوں جانب سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔
ٹی ٹی اے پی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے پہلے گورنر راج کو غیر آئینی قرار دیا، لیکن بعد میں حکومتی تجویز پر غور کرنے کی بات کی۔ بخاری نے مؤقف بدلنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں گورنر راج یا ایمرجنسی پر بات ہی نہیں ہوئی۔
یہ اختلاف ٹی ٹی اے پی کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی کو شریک کرنے کی کوششوں کے دوران سامنے آیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں وفد نے بخاری سے ملاقات کرکے دعوت دی تھی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اتحاد کے نمائندے اخوندزادہ حسین نے کہا کہ تحفظات ایک سینئر پارٹی رہنما کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ اتحاد اب چیئرمین کے دفتر سے براہ راست رابطے کو ترجیح دے گا۔
ٹی ٹی اے پی نے بخاری کے مبینہ مؤقف بدلنے کو بیرونی دباؤ سے بھی جوڑا۔ تاہم رپورٹ میں اس دعوے کی تصدیق کرنے والا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
بخاری کے مطابق پیپلز پارٹی کو ابھی کوئی باضابطہ تجویز نہیں ملی۔ حکومتی اتحادی ایسی تجویز پیش کریں گے تو پارٹی اس کا جائزہ لے کر اپنی رائے دے گی۔
انہوں نے اخبار کو بتایا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ہے، اس لیے تجویز سامنے آنے پر اپنی سفارشات دے گی۔ ان کے مطابق ملاقات کا مقصد صرف کانفرنس کی دعوت دینا تھا۔
بخاری نے کہا کہ بلاول مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان سے مشاورت کے بعد شرکت کا فیصلہ کریں گے۔ ابھی شرکت کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اخوندزادہ حسین نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کو کانفرنس میں نہیں بلایا جائے گا۔
یہ اختلاف وسیع سیاسی مکالمے کی کوشش میں موجود مشکل کو نمایاں کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی بھی ہے اور اپوزیشن اسے اپنی کانفرنس میں شامل بھی کرنا چاہتی ہے۔ کانفرنس کی دعوت اور خیبر پختونخوا سے متعلق کسی باضابطہ تجویز پر اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔





