اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ جیل میں قید پارٹی بانی عمران خان تک پارٹی قیادت کو رسائی دینے سے حکومت کا انکار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کی بنیادی وجہ بنا۔
اسد قیصر نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کو مجوزہ معاہدے پر فیصلہ کرنے سے قبل عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جاتی تو پارٹی اپنے دیگر مطالبات ایک طرف رکھنے کے لیے تیار تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس ملاقات کو معاہدے کا حصہ بنانے یا اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان کے بقول مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنما اہم سیاسی فیصلوں سے قبل اپنی اپنی قیادت سے مشاورت کرتے ہیں تو پی ٹی آئی کو اپنے جیل میں قید رہنما سے مشاورت کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کے بغیر اہم سیاسی اور سکیورٹی معاملات پر اپنا حتمی مؤقف طے نہیں کر سکتی۔ اپوزیشن نے مذاکرات کے دوران بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی سے مشاورت کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ خیبر پختونخوا حکومت کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں تعاون سے متعلق اختلافات تھے۔
اسد قیصر کے مطابق پی ٹی آئی نے تجویز دی تھی کہ وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتیں انسداد دہشت گردی کے معاملے پر مسلسل مشاورت جاری رکھیں اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندوں کو 72 گھنٹوں کے اندر ملاقات کرکے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ پی ٹی آئی نے انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا بھی مطالبہ کیا۔
مجوزہ معاہدے میں کئی ترامیم کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ حکومت نے مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں خیبر پختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق اختلافات بھی مذاکرات ناکام ہونے کی وجوہات میں شامل تھے۔





