لندن: برطانوی مسلح پولیس نے اتوار کی صبح امریکی زیرِ استعمال ملٹری بیس کی جانب تین مشکوک گاڑیوں کی پیش قدمی کی اطلاع ملنے پر آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب سے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔
مشتبہ افراد کو گلوسٹر شائر کے علاقے ویلفورڈ سے دھماکہ خیز مواد سے متعلق قوانین (ایکسپلوسوز ایکٹ) کے تحت جرائم کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم پولیس نے بعد میں بتایا کہ ان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبہے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
گاڑیوں کا معائنہ کرنے کے لیے فوج کی بم ڈسپوزل ٹیم کو طلب کیا گیا۔ پولیس نے 400 میٹر کا سیکیورٹی گھیراؤ قائم کر کے احتیاطی تدابیر کے طور پر تقریباً 85 گھرانوں کو مکانات خالی کرنے کی ہدایت کی۔ تحقیقات جاری رہنے کے دوران مشتبہ افراد پولیس تحویل میں ہی رہے۔
واقعے میں کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی، اور برطانوی حکام نے مشتبہ افراد کی شناخت، قومیت یا ممکنہ مقصد کو ظاہر نہیں کیا۔ پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق نہیں کی کہ گاڑیوں سے برآمد ہونے والا مواد کسی فعال دھماکہ خیز ڈیوائس پر مشتمل تھا یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرفتاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد بیس کو ”بڑا نقصان پہنچانے کی طاق میں تھے“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور برطانوی حکام طویل عرصے سے ان کے خلاف تحقیقات کر رہے تھے۔
یہ موقف سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی برطانوی میڈیا کی ان رپورٹس سے مختلف تھا جن میں کہا گیا تھا کہ یہ آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر نہیں کیا گیا تھا۔ پولیس کے سرکاری ٹائم لائن کے مطابق اہلکاروں نے گاڑیوں کے بارے میں رات تقریباً 12:45 بجے کال موصول ہونے پر کارروائی کی۔ حکام نے ان متضاد بیانات کی عوام کے سامنے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔
آر اے ایف فیئر فورڈ ایک برطانوی ملٹری بیس ہے جسے امریکی فضائیہ استعمال کرتی ہے۔ یہ امریکی بی ون (B1) اور بی ففٹی ٹو (B52) طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کو ٹھہرانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل ٹھکانوں کے خلاف امریکی آپریشنز میں مدد فراہم کر چکا ہے۔
جنگ کے دوران اس بیس کے کردار نے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھا دی ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا سبب بنا ہے، تاہم تفتیش کاروں نے اتوار کے واقعے کا تعلق کسی ریاست سے نہیں جوڑا ہے۔
برطانوی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جب تک ماہرین گاڑیوں اور دیگر ضبط شدہ مواد کا معائنہ کر رہے ہیں، وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔





