کراچی: کراچی کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) میں استعمال شدہ کپڑوں کی فیکٹری میں آگ لگنے سے تین افراد زخمی ہوگئے، جبکہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان حسّان الحسیب کے مطابق آگ لانڈھی میں واقع فیکٹری کی گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی اور بعد ازاں اوپر کی جانب پھیل گئی، جس سے گراؤنڈ پلس دو منزلہ عمارت مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آگئی۔
انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد فیکٹری میں موجود کارکنوں کو باہر نکالا گیا اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے عمارت سے سات افراد کو بحفاظت نکالا۔ ان میں سے تین افراد دھوئیں کے باعث بے ہوش ہوگئے، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق تینوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
حسّان الحسیب نے بتایا کہ آگ مکمل طور پر پھیل چکی ہے، اس لیے فی الحال یہ کہنا ممکن نہیں کہ اسے کب تک قابو میں کرلیا جائے گا۔ شدید گرمی کے باعث عمارت کسی بھی وقت منہدم ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
آگ بجھانے کے آپریشن میں فائر بریگیڈ کی 16 گاڑیاں، دو اسنارکلز، واٹر باؤزرز اور ایک ڈیزاسٹر رسپانس گاڑی شامل ہیں۔
آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملحقہ فیکٹریوں کو بھی خالی کرا لیا گیا، جبکہ ایک قریبی یونٹ کو تاحال آگ سے خطرہ ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ آگ مکمل طور پر بجھانے کے بعد واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
ریسکیو 1122 نے متاثرہ عمارت کو پہلے ہی ’’ساختی طور پر خطرناک‘‘ قرار دے رکھا تھا، جس کے باعث فائر فائٹرز عمارت کے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حکام کو آگ پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی اور کراچی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی۔
یہ رواں سال لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں آتشزدگی کا تازہ واقعہ ہے۔ فروری میں پلاسٹک پروسیسنگ یونٹ ماڈرن فیکٹری میں لگنے والی آگ قریبی عمارت تک پھیل گئی تھی اور اسے بجھانے میں تقریباً 13 گھنٹے لگے تھے۔ مئی میں ای پی زیڈ کے سکھن علاقے میں استعمال شدہ ملبوسات کی فیکٹری میں لگنے والی آگ پر تقریباً چھ گھنٹے میں قابو پایا گیا تھا۔ دونوں واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
کراچی کے صنعتی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حکام اکثر ناقص وائرنگ، حفاظتی اقدامات کی عدم تعمیل اور عمارتوں کے ضوابط پر کمزور عمل درآمد کو اس کی وجوہات میں شمار کرتے ہیں۔





