ایپل کے نئے متعارف کرائے گئے آئی فون ڈیوو نے کمپنی کے لیے ایک مختلف نوعیت کا سوال پیدا کر دیا ہے، کیونکہ یہ ڈیوائس آئی فون اور چھوٹے آئی پیڈ جیسے تجربے کو ایک ہی فون میں یکجا کرتی ہے۔
فون بند ہونے کی صورت میں ڈیوو عام آئی فون کی طرح کام کرتا ہے، جبکہ اسے کھولنے کے بعد بڑی اسکرین آئی پیڈ منی سے ملتے جلتے تجربے کی پیشکش کرتی ہے۔ ایپل کے سافٹ ویئر چیف کریگ فیڈریگی نے بھی تسلیم کیا کہ بعض صارفین کے لیے یہ ڈیوائس آئی پیڈ منی کی جگہ لے سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ ایپل نے روایتی طور پر اپنے آئی فون، آئی پیڈ اور میک کو الگ الگ پروڈکٹ لائنز کے طور پر رکھا ہے۔ آئی پیڈ خاص طور پر آئی فون اور میک کے درمیان ایک درمیانی ڈیوائس کے طور پر موجود رہا ہے، جو بڑی اسکرین اور اضافی صلاحیتیں فراہم کرتا ہے لیکن مکمل ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر نہیں بنتا۔
اب آئی فون ڈیوو اس تقسیم کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس میں فون اور ٹیبلٹ جیسے تجربے کو ایک ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
فیڈریگی کے مطابق ایپل نے نئے فولڈنگ ڈیزائن کے لیے سافٹ ویئر کو خاص طور پر تیار کرنے پر کافی توجہ دی ہے۔ کمپنی نے موجودہ آئی فون یا آئی پیڈ انٹرفیس کو صرف بڑی یا چھوٹی اسکرین کے مطابق تبدیل کرنے کے بجائے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو ایک ساتھ ڈیزائن کرنے کی کوشش کی ہے۔
کچھ ایپس میں یہ فرق پہلے ہی نظر آتا ہے۔ ڈیوو کو کھولنے پر Settings اور Photos ایپس آئی پیڈ کے ورژن سے ملتی جلتی دکھائی دے سکتی ہیں، جبکہ Home Screen اور Camera ایپ کو بند اور کھلی حالت کے درمیان بہتر تسلسل کے لیے مختلف انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ڈیوائس کو اس سال کے آخر میں مکمل Apple Pencil سپورٹ بھی ملنے کی توقع ہے، جس سے اس کی ٹیبلٹ جیسی صلاحیت مزید نمایاں ہو جائے گی۔
تاہم ڈیوو ہر صارف کے لیے نہیں ہے۔ ٹرانسکرپٹ کے مطابق امریکا میں اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 2,000 ڈالر ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک انتہائی پریمیم کیٹیگری میں آتا ہے۔
جن صارفین کے پاس پہلے ہی آئی فون اور آئی پیڈ منی موجود ہے، ان کے لیے ڈیوو خریدنے کی ضرورت واضح نہیں۔ اسی طرح وہ صارفین جو آئی فون میں بہترین کیمرا ہارڈویئر کو ترجیح دیتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ ماڈل زیادہ موزوں انتخاب نہیں ہو سکتا۔
اس کے بجائے ڈیوو ان صارفین کو زیادہ متوجہ کر سکتا ہے جو کئی سال سے فولڈنگ فون آزمانا چاہتے ہیں لیکن ایپل کے ایکو سسٹم سے باہر نہیں جانا چاہتے۔ اس کی زیادہ قیمت اسے ان صارفین کے لیے پریمیم آپشن بناتی ہے جو نئے فولڈنگ فارمیٹ کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنے پر تیار ہیں۔
امریکا کے مقابلے میں بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی ڈیوو کی قیمت زیادہ ہے۔ ٹرانسکرپٹ میں کینیڈا میں اس کی قیمت 2,999 کینیڈین ڈالر، تائیوان میں 74,900 نیو تائیوان ڈالر اور برطانیہ میں 1,999 پاؤنڈ بتائی گئی ہے۔
ایپل کی حکمت عملی صرف فولڈنگ فون متعارف کرانے تک محدود دکھائی نہیں دیتی بلکہ کمپنی اسے ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور اپنے ایکو سسٹم کے درمیان بہتر انضمام کے ذریعے نمایاں کرنا چاہتی ہے۔





