ڈیرہ اسماعیل خان: سرکاری ریڈیو پاکستان نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کا تعلق "فتنۃ الخوارج" سے تھا، جو ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عسکریت پسندوں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں 3 کمانڈر بھی شامل ہیں۔ آپریشن کے دوران غیر ملکی کرنسی، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ انٹیلی جنس آپریشن 'عزم استحکام' کا حصہ تھا، جو حکومت کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے تحت جون 2024ء میں منظور کیا گیا ایک اقدام ہے۔
آپریشن کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں پورا ملک سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑا ہے۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی مدد سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یہ آپریشن خیبر پختونخوا بھر میں عسکریت پسندوں کی جاری سرگرمیوں اور سیکیورٹی آپریشنز کے دوران سامنے آیا ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ادغام شدہ اضلاع کے علاوہ صوبے میں اگست کے دوران عسکریت پسندوں کے 54 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو جولائی میں 36 تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں صوبے بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کی ایک سیریز کی ہے۔ ہفتے کے روز جنوبی وزیرستان میں 5 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی، جبکہ جمعے کو شمالی وزیرستان میں 7 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے تھے۔
اس سے قبل میر علی، باڑہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی آپریشنز کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بتایا تھا کہ 15 سے 17 ستمبر کے درمیان مختلف آپریشنز میں 10 عسکریت پسند مارے گئے۔
صوبے میں سیکیورٹی اور ایمرجنسی اہلکاروں پر حملے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز میں ہونے والے ایک حملے میں 23 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے، جبکہ بعد میں کلیئرنس آپریشن کے دوران 8 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ اور ایمبولینس کو نشانہ بنانے والے ایک حملے میں دو ریسکیو اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہو گئے تھے۔





