واشنگٹن: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطینیوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط رابطہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر فلسطین کے بارے میں او آئی سی کی چھ رکنی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزی تقریباً روزانہ ہو رہی ہے، انہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت میں مسلسل سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسئلہ فلسطین او آئی سی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اور سفارتی حمایت کو متحرک کریں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کی توجہ فلسطینیوں کے جائز اور انسانی حقوق پر مرکوز رہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی کنارے اور غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال فوری توجہ کی طالب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سفارتی کوششوں نے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے، لیکن انسانی صورتحال تاحال دشوار اور سیکیورٹی ماحول نازک ہونے کے باعث سنگین چیلنجز برقرار ہیں۔
اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی توثیق شدہ غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ، قطر اور ترکیہ کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ نومبر 2025 میں منظور کی گئی اس قرارداد میں اس منصوبے کی توثیق کی گئی تھی اور سیز فائر کو برقرار رکھنے سمیت اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مغربی کنارے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے اسرائیل کی آبادکاری کی سرگرمیوں، آبادکاروں کے تشدد، ضم کرنے کی پالیسیوں اور دیگر اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے مقبوضہ فلسطینی علاقے کی علاقائی سالمیت اور تسلسل کو خطرہ ہے اور آئندہ فلسطینی ریاست کے امکانات مجروح ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مسجد اقصیٰ اور حرم شریف میں اسرائیلی آبادکاروں کی بار بار گھس بیٹھ سمیت مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی صورتحال کی خلاف ورزی ہیں۔
اسحاق ڈار نے چھ رکنی کمیٹی کے لیے چھ ترجیحات کا خاکہ پیش کیا، جن میں مسجد اقصیٰ، حرم شریف اور یروشلم میں اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی صورتحال کا تحفظ شامل ہے۔ انہوں نے آبادکاری کی توسیع، ضم کرنے کے اقدامات، آبادکاروں کے تشدد اور زبردستی بے دخلی کی مخالفت کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں بحالی اور انتظامی امور کی باگ ڈور فلسطینیوں کی قیادت میں ہونی چاہیے جس میں فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ہو، جبکہ بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے ایک معتبر، ناقابلِ واپسی اور متعین مدت کے سیاسی عمل کا مطالبہ کیا جو ایک آزاد، خودمختار اور باہم جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنے۔
انہوں نے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایسی فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔





