موسمیاتی تبدیلی پر وعدے کرنا نسبتاً آسان ہے، اصل چیلنج اس وقت شروع ہوتا ہے جب ان وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہو۔
اسی چیلنج کو اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کے چوتھے کلائمیٹ ویک کا مرکزی موضوع بنایا گیا ہے، جو سات سے 11 ستمبر تک آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری ہے۔ اجلاس میں حکومتوں، کاروباری اداروں، مالیاتی اداروں، شہروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں، جامعات اور عالمی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔
کلائمیٹ ویک کا مقصد روایتی عالمی موسمیاتی مذاکرات سے آگے بڑھ کر بین الحکومتی فیصلوں کو زمینی سطح پر عملی اقدامات سے جوڑنا ہے۔ نو اور 10 ستمبر کو ہونے والے امپلی مینٹیشن فورم میں موسمیاتی اقدامات کو تیز کرنے، صنعتی شعبے سے اخراج کم کرنے اور موسمیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل تک رسائی جیسے موضوعات پر توجہ دی گئی۔
اس بحث کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ شدید گرمی، جنگلات کی آگ اور دیگر موسمیاتی واقعات اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہے بلکہ معیشت اور روزمرہ زندگی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے کے سربراہ سائمن اسٹیل نے اس ہفتے خبردار کیا کہ یورپ میں شدید گرمی اور جنگلات کی آگ کے ساتھ فوسل ایندھن پر انحصار گھریلو صارفین، کاروباری اداروں اور حکومتوں کے اخراجات میں مزید دباؤ ڈال رہا ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ چیلنج مزید پیچیدہ ہے۔ موسمیاتی اقدامات کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مالی معاونت درکار ہے، جبکہ کئی کمزور ممالک پہلے ہی شدید موسمی حالات کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں۔
باکو کا کلائمیٹ ویک اسی لیے ایک اور اعلامیے سے زیادہ عملی تعاون کی سمت میں قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق کلائمیٹ ویکس کا مقصد پیرس معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کے لیے بین الحکومتی عمل کو زمینی سطح پر موسمیاتی اقدامات سے جوڑنا ہے۔
اب اس اجلاس کی اصل اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ باکو سے نکلنے والی باتیں کتنی تیزی سے پالیسی، سرمایہ کاری اور عملی منصوبوں میں تبدیل ہوتی ہیں۔ موسمیاتی وعدے اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب ان کے اثرات ان لوگوں تک پہنچیں جو بدلتے موسم اور بڑھتے خطرات کا براہ راست سامنا کر رہے ہیں۔





