سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے کہا ہے کہ اس کے کلاڈ ماڈل نے ایک نیا انزائم نظام دریافت کیا ہے جس میں موجود جینیاتی ترتیب جدید جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی سے مشابہت رکھتی ہے۔
کمپنی نے 2026 کے آغاز میں حیاتیاتی تحقیق کے لیے ایک گروپ اور تجربہ گاہ قائم کی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ مصنوعی ذہانت حیاتیاتی معلومات کا تجزیہ کرنے، سائنسی مفروضے بنانے اور غیر معمولی سالماتی نظام تلاش کرنے میں کس حد تک مدد دے سکتی ہے۔
محققین نے کلاڈ کو ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ (ڈی این اے) کے وسیع ذخیرے میں غیر معمولی ریورس ٹرانسکرپٹیز تلاش کرنے کی ہدایت دی۔ یہ ایسے انزائم ہوتے ہیں جو رائبونیوکلک ایسڈ (آر این اے) کی معلومات کو ڈی این اے میں منتقل کرتے ہیں۔
اینتھروپک کے مطابق تقریباً 950 کلاڈ ایجنٹس نے 21 گھنٹے کام کرتے ہوئے 210 ملین ٹوکنز پر مشتمل معلومات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے 200000 سے زیادہ ریورس ٹرانسکرپٹیز جمع کیے، 3500 ممکنہ نئے نظام شناخت کیے اور آخر میں 20 اہم امیدوار منتخب کیے۔
ایک ایجنٹ نے بیکٹیریا کو متاثر کرنے والے ایک بڑے وائرس میں غیر معمولی انزائم جین کے قریب بار بار دہرائی جانے والی ڈی این اے ترتیب دیکھی۔ کلاڈ نے اس ترتیب کا معلوم نظاموں سے موازنہ کیا اور سائنسی مواد میں اس کی سابقہ شناخت تلاش کی۔
بعد میں انسانی سائنس دانوں نے اس نتیجے کا جائزہ لیا اور تجربہ گاہ میں جانچ کی۔ اس نظام کو ارے ایسوسی ایٹڈ ریورس ٹرانسکرپٹیز (اے آر ٹی) کا نام دیا گیا ہے۔
اس کی ساخت کلسٹرڈ ریگولرلی انٹرسپیسڈ شارٹ پیلینڈرومک ریپیٹس (کرسپر) سے مشابہ ہے، جو بیکٹیریا کا قدرتی دفاعی نظام ہے اور جدید جین ایڈیٹنگ کی بنیاد بن چکا ہے۔
ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نظام مختصر آر این اے مالیکیولز پیدا کرتا ہے۔ تاہم سائنس دان ابھی یہ نہیں جانتے کہ اس کا قدرتی کام کیا ہے یا اسے جینیاتی مواد کاٹنے، نقل کرنے یا تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق فی الحال ابتدائی مقالے کی صورت میں جاری ہوئی ہے اور اس کا باقاعدہ علمی جائزہ نہیں ہوا۔ اس لیے آزاد ماہرین کی تصدیق ضروری ہوگی۔
اس دریافت کی اصل اہمیت فوری طبی استعمال میں نہیں بلکہ تحقیق کے بدلتے طریقے میں ہے۔ مصنوعی ذہانت نے وسیع جینیاتی مواد میں ممکنہ دریافت تلاش کی، لیکن انسانی سائنس دانوں نے اس کی اہمیت کا تعین کیا اور تجربہ گاہ میں اسے جانچا۔
یہ اشتراک ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں صرف معلومات فراہم کرنے والا ذریعہ نہیں بلکہ سائنسی تحقیق کی معاون بن سکتی ہے۔ تاہم حتمی اعتبار اب بھی انسانی فیصلے، قابل تکرار تجربات اور آزاد تصدیق سے ہی آئے گا۔





