اسلام آباد: وزارتِ قومی صحت یکم اور دو اکتوبر کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 منعقد کرے گی۔
اجلاس کا موضوع بچوں، نوجوانوں اور مقامی آبادی کے لیے ایسا ذہنی صحت کا نظام بنانا ہے جو موسمی آفات کے اثرات کا مقابلہ کر سکے اور مستقبل کی ضروریات پوری کرے۔ اس میں حکومتی نمائندے، طبی ماہرین، عالمی ادارے، نوجوان اور ذہنی صحت کے مسائل کا ذاتی تجربہ رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔
وزارت کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کی خدمات کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور زیادہ تر سہولتیں بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ وزارت کا اندازہ ہے کہ 10 سے 16 فیصد بالغ افراد کسی ہلکی یا درمیانی نوعیت کی نفسیاتی کیفیت، جبکہ مزید ایک سے دو فیصد شدید ذہنی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
اجلاس میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت، خودکشی کی روک تھام، نشہ آور اشیا کے استعمال، ڈیجیٹل خدمات اور آفات سے متاثرہ افراد کی نفسیاتی مدد پر گفتگو ہوگی۔ وزارت صوبوں اور علاقوں کی مشاورت سے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 بھی تیار کر رہی ہے۔ اجلاس میں بنیادی صحت کی سہولتوں، اسکولوں اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کی خدمات شامل کرنے کے لیے ترجیحات طے کرنے کی توقع ہے۔





