واشنگٹن: چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ واشنگٹن کے بعد، امریکہ اور چین نے 30 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیرف) میں کمی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ٹیرف میں کمی میں امریکی برآمدات بشمول زرعی مصنوعات، لکڑی اور کاسمیٹکس، کے ساتھ ساتھ امریکہ کو ہونے والی چینی برآمدات جیسے کہ چھوٹے آلات، کھلونے اور سجاوٹ کا سامان شامل ہوگا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا، "دونوں ممالک نے دونوں اطراف سے 30 ارب ڈالر کی غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار ٹیرف کے اصولوں پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔"
صدر شی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تین روزہ سربراہی اجلاس، جو جمعہ کو اختتام پذیر ہوا، ذاتی سفارت کاری پر مرکوز رہا، اور اس میں چند ہی بڑے عوامی فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ صدر شی اس کے بعد بیجنگ واپس پہنچ گئے ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں فریقوں نے ایک ٹریڈ کونسل قائم کرنے اور کوالالمپور میں ہونے والے پچھلے مذاکرات کے نتائج کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ تازہ معاہدہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کی جانب سے اپنے ٹیرف معاہدے (جنگ بندی) میں دو ماہ کی توسیع کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ یہ جنگ بندی 10 نومبر کو ختم ہونا تھی لیکن اس توسیع سے دونوں فریقوں کو ایک وسیع تر معاہدے کی طرف کام کرنے کے لیے اضافی وقت مل جائے گا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اس دورے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے "تعمیری اور مستحکم چین امریکہ تعلقات" کو مضبوط کیا ہے اور دو طرفہ تعلقات کا ایک نیا باب کھولا ہے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے، واشنگٹن اور بیجنگ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے عزم پر قائم رہنا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ملک یا ادارے کو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر نقل و حمل کے ٹول عائد نہیں کرنے چاہئیں۔
وائٹ ہاؤس اور چینی وزارت خارجہ کے بیانات کے مطابق، امریکہ اور چین نے مصنوعی ذہانت کے خطرات اور فوائد پر بات چیت شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ بات چیت کا اگلا دور نومبر کے لیے طے ہے، جبکہ دونوں ممالک اے آئی سے متعلقہ حادثات سے نمٹنے کے لیے ایک کمیونیکیشن چینل قائم کریں گے۔
وائٹ ہاؤس نے یہ بھی بتایا کہ رہنماؤں نے "مصنوعی ذہانت" (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے بجائے "سپر انٹیلی جنس" کی اصطلاح استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ بیجنگ نے واشنگٹن کی جانب سے اس نئی اصطلاح کے استعمال کا خیرمقدم کیا ہے، اور مزید کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کو باہمی تبادلوں میں اضافہ کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے کی طرف کام کرنا چاہیے۔
دونوں ممالک نے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) کے رہنماؤں کے اجلاس اور جی 20 (G20) کے سربراہی اجلاس سمیت اہم بین الاقوامی اجتماعات کی میزبانی میں ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔





