شنگھائی: سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ایک ایسے خصوصی بحری جہاز کی تیاری کر رہا ہے جسے تجزیہ کار بڑے بغیر پائلٹ آبدوز ڈرونز کی منتقلی، لانچ اور واپسی کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
یہ جہاز شنگھائی میں ہڈونگ ژونگ ہوا شپ یارڈ میں زیر تعمیر ہے۔ نیول نیوز کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں اس کے پچھلے حصے میں ایک مخصوص ڈیک، اندرونی ہینگر اور ایسا نظام دکھائی دیتا ہے جس کے ذریعے ایک بڑے آبدوز ڈرون کو پانی میں اتارا اور واپس اٹھایا جا سکتا ہے۔
نیول تجزیہ کار ایچ آئی سوٹن کے مطابق جہاز کا ڈیزائن چین کے ایکسٹرا ایکسٹرا لارج بغیر پائلٹ زیر آب گاڑیوں، یعنی XXLUUVs، کے لیے مادر جہاز کے کردار سے مطابقت رکھتا ہے۔ جہاز اور پہلے سے مشاہدے میں آنے والی بڑی آبدوزوں کے حجم کی بنیاد پر ان کا اندازہ ہے کہ اس کا ہینگر تقریباً چار بڑی گاڑیوں کو رکھنے کی گنجائش رکھ سکتا ہے۔
تاہم چینی حکومت یا شپ یارڈ نے جہاز کے مقصد، نام یا ممکنہ آپریٹر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ اس لیے اسے دنیا کا پہلا مخصوص مادر جہاز قرار دینا دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور اوپن سورس تجزیے پر مبنی اندازہ ہے، سرکاری طور پر تصدیق شدہ حقیقت نہیں۔
چین اس سے پہلے ہینان کے قریب سمندری علاقوں میں کم از کم دو بہت بڑی بغیر پائلٹ زیر آب گاڑیوں کی آزمائش کرتا دکھائی دیا ہے۔ ان گاڑیوں کی لمبائی تقریباً 35 اور 45 میٹر بتائی جاتی ہے۔ تاہم ان کی مکمل تکنیکی خصوصیات، ممکنہ ہتھیاروں یا دیگر پے لوڈ اور آپریشنل حیثیت عوامی طور پر واضح نہیں کی گئی۔
ممکنہ مادر جہاز اس پروگرام میں ایک اہم نئی سہولت فراہم کر سکتا ہے، یعنی نقل و حرکت اور معاونت۔ اتنی بڑی خودکار آبدوزوں کے لیے صرف لانچ کی سہولت کافی نہیں ہوتی۔ انہیں دیکھ بھال، توانائی، مرمت، واپسی اور دوبارہ مشن کی تیاری کے لیے بھی معاون نظام درکار ہوتے ہیں۔ ایک مخصوص بحری جہاز یہ سہولیات مستقل ساحلی تنصیبات سے دور بھی فراہم کر سکتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک بڑے خودکار زیر آب نظام تیار کر رہے ہیں۔ امریکا بوئنگ اورکا تیار کر رہا ہے جبکہ برطانیہ ایکس وی ایکسکیلیبر نظام کی آزمائش کر رہا ہے۔ چین میں دیکھی گئی گاڑیاں ان معلوم پلیٹ فارمز کے مقابلے میں خاصی بڑی ہیں، تاہم صرف حجم کی بنیاد پر کسی نظام کی عملی برتری ثابت نہیں ہوتی۔
ان چینی گاڑیوں کے ممکنہ استعمال بھی ابھی واضح نہیں۔ تجزیہ کاروں نے نگرانی، سمندری تہہ کی نگرانی اور بارودی سرنگوں سے متعلق کارروائیوں سمیت مختلف امکانات کا ذکر کیا ہے، لیکن چین نے ان کے ممکنہ پے لوڈ یا عملی استعمال کی تصدیق نہیں کی۔





