برازیلیا: برازیل کے صدارتی انتخابات دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا اور سینیٹر فلاویو بولسونارو پچیس اکتوبر کو مدمقابل ہوں گے۔ اتوار کی ووٹنگ میں کسی امیدوار کو براہ راست کامیابی کے لیے درکار اکثریت نہیں ملی۔
دوسرے مرحلے میں پہلے مرحلے کے دو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخاب ہوتا ہے۔ برازیل میں پہلے مرحلے میں جیتنے کے لیے درست قرار دیے گئے ووٹوں کے نصف سے زیادہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ خالی اور مسترد شدہ ووٹ اس حساب میں شامل نہیں ہوتے۔
رپورٹ ہونے والی گنتی میں سابق صدر جائیر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو کو لولا پر برتری حاصل تھی۔ ووٹوں کے اعدادوشمار مسلسل اپ ڈیٹ ہورہے تھے، جبکہ دونوں امیدوار اب مزید تین ہفتے انتخابی مہم چلائیں گے۔
معاشی پالیسی، روزمرہ اخراجات، بدعنوانی اور امن و امان انتخابی بحث کے اہم موضوعات رہے ہیں۔ لولا نے سماجی بہبود کے پروگراموں پر زور دیا، جبکہ بولسونارو نے بدعنوانی سے نمٹنے اور امریکا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کو اپنی مہم کا حصہ بنایا۔
ووٹنگ سے پہلے سفارتی اقدامات نے بھی ماحول میں تناؤ بڑھایا۔ امریکا نے دو اکتوبر کو غیر واضح سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر سفارت خانے اور قونصل خانوں میں خدمات معطل کردیں۔ ان خدمات میں ویزا اور شہریوں کی مدد سے متعلق معمول کی ملاقاتیں شامل ہوتی ہیں۔ آسٹریلیا نے بھی امریکی انتباہ کے بعد برازیلیا میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے برازیلی حکام کے ساتھ تعاون کی تصدیق کی، تاہم اس فیصلے کو عوامی طور پر انتخابات سے نہیں جوڑا۔
برازیل کی وفاقی پولیس نے ممکنہ سفارتی خطرات کے سلسلے میں احتیاطی تلاشیوں کے بعد کہا کہ حملے کے کسی منصوبے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے، البتہ تحقیقات جاری ہیں۔
لولا کی مہم نے امریکی اقدام میں ممکنہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔ یہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ووٹنگ میں نمایاں بے ضابطگیوں کی اطلاع نہیں ملی۔ حتمی صدارتی فیصلہ پچیس اکتوبر کی ووٹنگ میں ہوگا۔





