پیرس: خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اور بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک خفیہ بارٹر مالیاتی نظام پر انحصار کر رہا ہے، جس کے تحت خام تیل کے بدلے اربوں ڈالر مالیت کی چینی مصنوعات بشمول ایئر ڈیفنس آلات حاصل کیے جا رہے ہیں۔
یہ نظام روایتی بین الاقوامی بینکاری کے نظام سے ہٹ کر کام کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت ایرانی تیل کی فروخت سے براہ راست نقد رقم کی منتقلی کے بجائے کریڈٹ لائنز قائم ہوتی ہیں۔ بعد ازاں ان کریڈٹس کو ادویات، گاڑیوں اور مواصلاتی آلات جیسی ضروری اشیاء سے لے کر عسکری سامان تک کی چینی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
کموڈیٹیز اینالیٹکس فرم 'کیپلر' کے اعداد و شمار کے مطابق، چین نے 2025 میں ایران کی جانب سے برآمد کیے گئے خام تیل کا 80 فیصد سے زائد حصہ خریدا، جو روزانہ اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل بنتا ہے۔ جوہری پروگرام پر واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیاسی و اقتصادی دباؤ کے دوران اس تجارتی معاہدے نے تہران کے لیے ایک اہم مالیاتی سہارے کا کام کیا ہے۔ بدلے میں چین نے امریکی ثانوی پابندیوں سے اپنے بڑے برآمد کنندگان اور مالیاتی اداروں کو محفوظ رکھتے ہوئے رعایت پر توانائی تک رسائی حاصل کی ہے۔
انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چین کی سرکاری آئل ٹریڈر 'ژوہائی ژین رونگ' کے نمائندہ خریدار نے ماہانہ کروڑوں ڈالر چین میں قائم 'چوکسن' نامی ایک غیر معروف ادارے میں جمع کرائے۔ ان فنڈز سے نیشنل ایرانی آئل کمپنی سے منسلک اور ہانگ کانگ میں رجسٹرڈ فرم کے ذریعے فراہم کردہ تیل کی ادائیگی کی گئی۔
'چوکسن' کے ذریعے منتقل کی جانے والی رقم کا تقریباً 70 فیصد حصہ ایران میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے مختص تھا۔ باقی رقم ایک اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) کے زیر انتظام کھاتوں میں چلی گئی، جس کی نگرانی چین کی وزارت تجارت اور ایران کے مرکزی بینک کے نمائندہ ادارے کرتے ہیں۔ تہران سے مجاز ایرانی درآمد کنندگان چینی سپلائرز کے ساتھ ادائیگیاں نپٹانے کے لیے اس ایس پی وی سے فنڈز حاصل کر سکتے تھے، جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس نے گزشتہ سال 2 ارب سے 2.5 ارب ڈالر تک کے معاملات کو سنبھالا۔
رپورٹس کے مطابق یہ نظام کم از کم 2021 سے فعال ہے، جس نے ابتدائی طور پر ادویات اور کووڈ-19 ویکسین کی ترسیل میں سہولت فراہم کی اور بعد میں دیگر تجارتی و دفاعی شعبوں تک وسعت اختیار کر لی۔ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ چینی مینوفیکچررز نے براہ راست پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہو یا وہ فنڈز کے ان مخصوص راستوں سے واقف تھے۔
اس ترتیب کے بارے میں پوچھے جانے پر چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اس صورتحال سے ناواقف ہے، جبکہ سلامتی کونسل سے غیر منظور شدہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ جنیوا اور نیویارک میں ایرانی سفارتی مشنز نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ایک امریکی اہلکار نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن ایران کے ایٹمی عزائم کی حمایت کرنے والے وسائل تک اس کی رسائی کو محدود کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اس تجارتی منصوبے کی مخصوص تفصیلات پر گفتگو نہیں کی گئی۔





