اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پیر کو وکلا ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی درخواستِ ضمانت کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی غیر حاضری اور پولیس کی جانب سے مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تفتیشی افسر کے شہر سے باہر ہونے کی اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف کو عدالت میں طلب کیا۔
سماعت کے دوران جج نے متعدد مرتبہ پولیس حکام سے تفتیشی افسر کے بارے میں استفسار کیا اور زبانی وضاحت کے بجائے اس کی غیر حاضری سے متعلق دستاویزی ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ڈی ایس پی نے بعد ازاں عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے اور اس حوالے سے واٹس ایپ پیغام کی پرنٹ شدہ کاپی پیش کی۔ تاہم عدالت نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اصل دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا۔
جج نے متنبہ کیا کہ اگر مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو ڈی ایس پی اور ایس پی کو چھ ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر عدالت نے ہتھکڑیاں منگوانے کا حکم بھی دیا اور سکیورٹی حکام کو ہدایت کی کہ عدالتی اجازت کے بغیر ڈی ایس پی کو باہر نہ جانے دیا جائے۔
دفاعی وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ وہ ضمانت کی درخواستوں پر تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ کے علاوہ دیگر دفعات قابلِ ضمانت ہیں اور محض تفتیشی افسر کی غیر موجودگی کو ضمانت کی سماعت میں تاخیر کی وجہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر کی غیر حاضری کے باعث مقدمے کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔
عدالت نے بعد ازاں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی، جبکہ جج نے کہا کہ تفتیشی افسر کی غیر حاضری کے معاملے پر تفصیلی حکم بھی جاری کیا جائے گا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس وقت اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج احتجاج سے متعلق ایک مقدمے میں زیرِ حراست ہیں۔ مقدمے میں ان پر سڑکیں بند کرنے، سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور مجرمانہ دھمکیوں سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ان کی موجودہ حراست سے قبل سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک علیحدہ مقدمے میں دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اپیلوں کے حتمی فیصلے تک انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم رہائی کے چند گھنٹے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے انہیں احتجاج سے متعلق علیحدہ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
احتجاج سے متعلق مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ تاحال ہونا باقی ہے۔




