گیلی آؤٹ فیلڈ کے باعث تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے میچ کو فی اننگز 11 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔ ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو ابتدائی طور پر تھائی بیٹر ننپات کونچاروینکائی کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن کی 38 گیندوں پر 49 رنز کی جارحانہ اننگز کی بدولت تھائی لینڈ نے 4 وکٹوں پر 91 رنز کا ہدف ساز مجموعہ ترتیب دیا۔ کپتان فاطمہ ثناء پاکستانی باؤلرز میں سب سے نمایاں رہیں، جنہوں نے 22 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں، جن میں اننگز کی آخری گیند پر کونچاروینکائی کی اہم وکٹ بھی شامل تھی۔
جواب میں 92 رنز کے تعاقب میں پاکستان کو اوپنر شوال ذوالفقار نے 15 گیندوں پر 25 رنز بنا کر شاندار آغاز فراہم کیا۔ تاہم آف اسپنر اونیشا کامچومپھو (37 رنز کے عوض 3 وکٹیں) نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا، اور قومی ٹیم محض 14 گیندوں کے دوران 11 رنز پر 4 وکٹیں گنوا کر 47 پر 4 وکٹوں کی مشکلات کا شکار ہو گئی۔
جب پاکستان کو 24 گیندوں پر 44 رنز کا مشکل ہدف درپیش تھا، تو کپتان فاطمہ ثناء نے فیصلہ کن آٹھویں اوور میں میچ کا پاسا پلٹ دیا۔ فاطمہ ثناء نے مسلسل باؤنڈریز لگاتے ہوئے دو چوکے اور ایک چھکا جڑا، جبکہ لونگ آف پر ان کا کیچ چھوٹنے سے مزید ایک چوکا ملا۔ ایمن فاطمہ نے اس 25 رنز کے اوور کا اختتام چھکے پر کیا اور مطلوبہ رنز کا فرق نمایاں طور پر کم کر دیا۔
فاطمہ ثناء اور ایمن کے پے در پے آؤٹ ہونے کے باوجود طوبیٰ حسن نے ایک چوکے اور ایک چھکے پر مشتمل مختصر مگر اہم اننگز کھیل کر پاکستان کو ہدف کے بالکل قریب پہنچا دیا۔ اس کے بعد ایمان نصیر اور ام ہانی نے آخری اوور میں سکون سے سنگلز لے کر باقی ماندہ رنز بنائے اور پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔
پاکستان کا مقابلہ اب 20 ستمبر کو ہونے والے سیمی فائنل میں ملائیشیا اور سری لنکا کے درمیان کوارٹر فائنل کے فاتح سے ہوگا۔





