نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا عمومی مباحثہ 22 ستمبر کو شروع ہوا۔ یہ 26 ستمبر تک جاری رہے گا اور اس کا آخری دن 28 ستمبر ہوگا۔
جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کے برعکس، جہاں پانچ مستقل ممالک کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جنرل اسمبلی میں ہر ملک کے پاس ایک ووٹ ہوتا ہے۔
اس سال اجلاس کا موضوع ہے “اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام اور سب کے لیے مؤثر اقوام متحدہ۔” یہ موضوع اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی ادارے جنگوں، انسانی بحرانوں، معاشی عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
عمومی مباحثے میں سربراہان مملکت اور حکومت اہم عالمی معاملات پر اپنے ممالک کا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان افتتاحی کارروائی سے خطاب کرنے والی نمایاں شخصیات میں شامل ہیں۔
مسلح تنازعات اس سال کے ایجنڈے پر غالب رہنے کی توقع ہے۔ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، ایران، یمن، یوکرین اور بحیرہ احمر کی صورت حال نے شہریوں کے تحفظ، توانائی کی سلامتی، عالمی تجارت اور بین الاقوامی قانون سے متعلق اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک قرضوں، غذائی تحفظ، موسمیاتی مالی معاونت، ٹیکنالوجی تک رسائی اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات پر توجہ دیں گے۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات، بالخصوص سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ بنانے کا مطالبہ بھی اہم موضوع ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستان فلسطین، علاقائی امن، موسمیاتی خطرات، معاشی تعاون اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل اجاگر کرے گا۔ پاکستانی وفد اجلاس کے موقع پر دو طرفہ اور گروہی ملاقاتیں بھی کر رہا ہے۔
جنرل اسمبلی کی بیشتر قراردادیں قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں اور یہ ادارہ اپنے اکثر فیصلوں پر خود عمل درآمد نہیں کرا سکتا۔ اس کی اہمیت عالمی حمایت پیدا کرنے، سفارتی مؤقف واضح کرنے اور براہ راست مذاکرات کے مواقع فراہم کرنے میں ہے۔
مرکزی اجلاس کی تقاریر توجہ حاصل کرتی ہیں، لیکن اہم سفارت کاری اکثر اجلاس کے اطراف ہونے والی ملاقاتوں میں ہوتی ہے۔ اسی لیے اس اجلاس کی کامیابی کا تعین صرف رہنماؤں کے الفاظ نہیں بلکہ نیویارک سے واپسی کے بعد ان پر ہونے والا عمل کرے گا۔





