نیویارک: پاکستان نے مشرق وسطیٰ پر سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں سخت موقف اپنایا اور سوال اٹھایا کہ اگر فائر بندی نافذ ہے تو فلسطینی شہریوں کی ہلاکتیں اور "اسرائیلی" فوجی حملے کیوں جاری ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سوال کیا، ”اگر ہمیں بتایا گیا ہے کہ فائر بندی برقرار ہے، تو پھر حملے اور شہریوں کا قتلِ عام کیسے جاری ہے؟“ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فوجی کارروائیوں کا خاتمہ غزہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کا ”پہلا اور سب سے اہم قدم“ تھا۔
انہوں نے 15 رکنی کونسل کو بتایا، ”سلامتی کونسل کے واضح موقف اور بار بار کارروائیاں روکنے کے مطالبات کے باوجود اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری بلا تعطل جاری ہے۔“
پاکستانی مندوب نے کہا کہ نام نہاد ’ای 1‘ آبادکاری منصوبے کی پیشرفت انتہائی تشویشناک اور ایک ”خطرناک پیشرفت“ ہے، جس کے نتیجے میں مغربی کنارے کا شمالی اور جنوبی حصہ عملی طور پر ایک دوسرے سے کٹ جائے گا۔
”یہ منصوبہ نہ صرف مستقبل کی فلسطینی ریاست کی جغرافیائی تال میل کے لیے خطرہ ہے، بلکہ اس سے ہزاروں فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کا خدشہ بھی لاحق ہے۔“
پاکستانی مندوب نے مسلح گروہوں کے تشدد میں تشویشناک حد تک اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 2026ء کے آغاز میں ماہانہ تقریباً 190 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو ”ناقابلِ قبول ہیں اور ان پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے“۔
انہوں نے فلسطینیوں کی چھ ارب ڈالر سے زائد کی کلیئرنس آمدن کی مسلسل روک تھام کی بھی مذمت کی، جس سے فلسطینی اتھارٹی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ فنڈز بلا تاخیر جاری کیے جانے چاہئیں۔“
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود "اسرائیل" کا مسلسل فوجی تناؤ اور روڈ میپ کو مسترد کرنا اس سفارتی عمل کو ناکام بنا سکتا ہے اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سفیر عاصم احمد نے زور دیا کہ غاصب قوت پر لازم ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطین کی قانونی، جغرافیائی اور ڈیموگرافک حالت کو تبدیل کرنے کے لیے تمام غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر بند کرے۔
انہوں نے مقبوضہ فلسطین میں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی تمام خلاف ورزیوں، بشمول جنگی جرائم اور دیگر سنگین تجاوزات کا محاسبہ یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
”خطے میں پائیدار امن و استحکام کے مفاد میں اس غیر قانونی قبضہ کا خاتمہ ضروری ہے، جو اس کونسل اور عالمی برادری کا مشترکہ ہدف ہے۔“
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی وقار، انصاف اور حقِ خودارادیت کے لیے جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
”خطے کے تمام لوگوں کے لیے امن کا واحد قابلِ عمل راستہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کی بنیاد پر عادلانہ اور جامع امن کا قیام ہے، جس کے تحت 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔“
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الکباروف نے کونسل کو بتایا کہ تقریباً ایک سال کی فائر بندی کے باوجود غزہ کی صورتحال سنگین ہے؛ انہوں نے ایک ہفتے کے وقفے کے بعد 12 اگست کو دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں، زیر جائزہ مدت کے دوران 100 فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور 400 سے زائد کے زخمی ہونے اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی رپورٹ دی۔
فلسطین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی غاصب فورسز واضح طور پر فلسطینی ریاست کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔





