ویب ڈیسک: ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے اردن کے علاقے الازرق میں موجود امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔
پاسداران انقلاب نے حملے کو ایک “انتقامی کارروائی” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی اڈے کو بھاری میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ تاہم، اس نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
اردن کی فوج کے مطابق ایران سے داغے گئے 20 بیلسٹک میزائلوں میں سے 18 کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا، جبکہ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ اردنی حکام نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ ایک امریکی عہدیدار نے بھی کہا کہ حملہ مؤثر ثابت نہیں ہوا اور اردن میں موجود تمام امریکی فوجی محفوظ ہیں۔
یہ حملہ امریکا کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کیے جانے کے ایک روز بعد ہوا۔ واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی تھی۔ امریکا نے کہا کہ اس حملے میں کوئی امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
تازہ حملوں سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ اس تنازع کا دائرہ اب فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ خلیج میں تیل کی ترسیل اور اہم بحری راستوں تک پھیل رہا ہے۔
اردن میں امریکی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ خطے میں جاری جوابی کارروائیوں کے دائرہ وسیع ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی عالمی تیل کی فراہمی کے لیے بھی خطرات بڑھا رہی ہے، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے۔





