ویب ڈیسک:پاکستان نے بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک سو سال پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی مذمت کی ہے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے مسجد کی مسماری کو قابل مذمت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مطابق یہ واقعہ بھارت میں اسلامی ورثے اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے حوالے سے وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش کے حکام نے پانچ ستمبر کو پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں علی الصبح کارروائی کے دوران مسجد کو مسمار کیا۔
واقعے کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ نے 1992 میں بابری مسجد کی مسماری کا بھی حوالہ دیا اور اسے مذہبی عدم برداشت اور تعصب کی علامت قرار دیا۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعات کا نوٹس لے۔
دفتر خارجہ نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کے لیے جواب دہی یقینی بنائی جائے جو پاکستان کے مطابق اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کی مذہبی آزادی اور ثقافتی ورثے کو متاثر کرتے ہیں۔
اس رپورٹ کے لیے دستیاب معلومات میں بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان کے اس ردعمل پر کوئی براہ راست مؤقف شامل نہیں ہے۔
یہ واقعہ بھارت میں مذہبی مقامات، اقلیتوں کے حقوق اور تاریخی عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ بابری مسجد کا معاملہ بھی بھارت اور پاکستان کے تعلقات اور بھارت میں مذہبی کشیدگی سے متعلق مباحث میں ایک اہم موضوع رہا ہے۔
حالیہ واقعے نے ایک بار پھر مذہبی آزادی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے درمیان تعلق کو نمایاں کیا ہے۔ ایسے واقعات میں عالمی توجہ عام طور پر اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ آیا اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو قانون کے تحت یکساں تحفظ حاصل ہے۔
پاکستان کے لیے یہ واقعہ بھارت کے ساتھ پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک اور سفارتی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ وسیع تر سطح پر مذہبی مقامات اور اقلیتی ورثے کے تحفظ کا معاملہ خطے میں مذہبی اور سماجی کشیدگی کے دوران اہمیت رکھتا ہے۔





