اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کی قیاس آرائیوں کے درمیان صوبے کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
گورنر ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مارچ سے جڑے سیکیورٹی خدشات پر گفتگو کی، جن میں عوام کی نقل و حرکت کی آڑ میں دہشت گردوں کے سیکیورٹی چیک پوسٹیں عبور کرنے کے خطرے کا بھی ذکر کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر صدر مملکت اور وزیر اعظم گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ تاہم کسی بھی اقدام کو نافذ کرنے کے حوالے سے فی الحال کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا کی امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیاسی ماحول اور پی ٹی آئی کے مارچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
گورنر ہاؤس نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر وفاق کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں صوبائی حکومت کے موقف پر تنقید کی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر بغیر کسی معاہدے کے مذاکرات ختم ہونے کا ملبہ ڈال رہے ہیں۔
محسن نقوی اور کنڈی نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی وزرا کی جانب سے مارچ کے لیے ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال پر بھی تنقید کی اور اسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
گورنر کنڈی نے بتایا کہ ملاقات میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ وفاق گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے اور ایمرجنسی کا نفاذ بھی متوقع ہے۔ تاہم رپورٹ کی اشاعت تک وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر ایسے کسی اقدام کا اعلان نہیں کیا تھا۔
یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پی ٹی آئی کا پارٹی بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ جاری ہے۔





