نیویارک: نیویارک ٹائمز کے مقدمے میں سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق مائیکروسافٹ کے سائنس دان برینٹ ہیخت نے مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے بڑے پیمانے پر مواد جمع کرنے کو انسانی تاریخ میں محنت کی ممکنہ طور پر سب سے بڑی چوری قرار دیا تھا۔
جنوری دو ہزار تئیس کا یہ تبصرہ ایک ملازم کی اندرونی رائے تھی۔ اسے عدالتی فیصلہ یا کمپنی کی جانب سے غیر قانونی عمل کا اعتراف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی کی پالیسی نہیں تھی۔
نیویارک ٹائمز نے دسمبر دو ہزار تئیس میں مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ کیا تھا۔ اخبار کا الزام ہے کہ اس کی صحافت بلا اجازت استعمال ہوئی اور اے آئی اسی کام کے متبادل جواب فراہم کر سکتی ہے۔ دونوں کمپنیاں امریکی قانون کے تحت مواد کے جائز استعمال کا دفاع پیش کرتی ہیں۔
دستاویزات ایک بنیادی مسئلہ سامنے لاتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت جس انسانی کام سے سیکھتی ہے، اس کے متبادل بن کر اسی کام کی آمدنی متاثر کر سکتی ہے۔ یہ تنازع اصل صحافت اور تخلیقی کام کی معاشی بقا پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔





