مانسہرہ: مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے مانسہرہ میں 19 سالہ مدرسہ طالبہ کے قتل میں ملوث شخص کو تقریباً ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود گرفتار نہ کیے جانے پر احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔
اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ واقعے کے بعد والدین میں خوف اور عدم تحفظ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے پولیس سے ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس میں سابق صوبائی وزیر سید احمد حسین شاہ، ضلعی سیرت کمیٹی کے سرپرستِ اعلیٰ مولانا سعید عبداللہ اور ضلعی امن کمیٹی کے چیئرمین مولانا عنایت الرحمٰن بھی موجود تھے۔
علما کے مطابق ان کے ایک وفد نے ضلعی پولیس افسر سے بھی ملاقات کی اور واقعے میں ملوث شخص کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ 29 ستمبر کو پیش آیا تھا، جب طالبہ مانسہرہ کے علاقے لمبی ڈھیری میں واقع جامعہ فاطمۃ الزہرہ سے دیگر طالبات کے ہمراہ گھر واپس جا رہی تھی۔
پولیس اور طالبہ کے والد مولانا سعید کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق گھر کے قریب ایک حملہ آور نے طالبہ کو نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ اسے کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ منتقل کیا گیا، جہاں وہ اگلے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
طالبہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ واقعے کے وقت اس کی ساتھی طالبات موقع پر موجود تھیں اور حملہ آور کو شناخت کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق خاندان کی کسی سے کوئی معلوم دشمنی بھی نہیں تھی۔
طالبہ کی موت کے بعد مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے مدرسوں میں زیرِ تعلیم طالبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
اتوار کی پریس کانفرنس میں مفتی کفایت اللہ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی عدم گرفتاری نے اپنی بیٹیوں کو مدارس بھیجنے والے والدین میں تشویش بڑھا دی ہے۔
علما نے خبردار کیا کہ اگر واقعے میں ملوث شخص کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے، جبکہ پولیس کی جانب سے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔





