لوئر دیر: اڈینزئی تحصیل کے مختلف دیہات میں بخار کی بیماری کی اطلاعات اور گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مقامی افراد کی جانب سے سات اموات کی اطلاع کے بعد محکمہ صحت نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
خانپور، اسبنڑ، برامیکے، بوچکے، شادم اور شورشنگ کے رہائشیوں نے بتایا کہ متعدد افراد کو بخار، سانس لینے میں دشواری اور دیگر طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مریضوں کو علاج کے لیے چکدرہ، سوات اور دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
مقامی افراد نے صوبائی محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں بھیجنے اور میڈیکل کیمپ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نیاز محمد آفریدی نے کہا کہ ابتدائی نتائج سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ رپورٹ ہونے والی تمام اموات کا تعلق کسی ایک وبا سے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ برامیکے میں انتقال کرنے والے دو بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے، جبکہ بوچکے کے دو نوجوان پشاور میں گردن توڑ بخار کے علاج کے لیے زیر علاج ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرنے والوں میں شامل ایک خاتون تپ دق میں مبتلا تھیں۔
ڈی ایچ او کے مطابق بوچکے میں شدید بخار کی بیماری کے کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری کو بھی ممکنہ وجوہات میں شامل کرتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ محکمہ صحت کی ٹیموں نے گاؤں کا دورہ کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں۔
احتیاطی اقدام کے طور پر بوچکے اور برامیکے میں ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے اسپرے بھی کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر بشارت احمد نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) سید اکرم شاہ کی سربراہی میں محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور پبلک ہیلتھ کے حکام پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی ہے جو ان کیسز کی تحقیقات کرے گی۔
حکام کے مطابق ٹیم متاثرہ دیہات کا دورہ کرے گی، مقامی رہائشیوں سے معلومات حاصل کرے گی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔





