اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے دو اکتوبر کو دوپہر بارہ بجے ملاقات کریں گے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے مجوزہ اسلام آباد مارچ سے دو روز پہلے یہ مذاکرات سیاسی کشیدگی کم کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔
ملاقات کا اعلان جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات کے بعد ہوا۔ ایوان صدر اور پیپلز پارٹی کے بیانات کے مطابق مشترکہ وفد اپوزیشن سے ملک کی سیاسی صورت حال پر بات کرے گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کے بعد دعوت قبول کی۔ مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے دفتر میں ہوں گے۔
حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنااللہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شامل ہوں گے۔ اپوزیشن کی جانب سے گوہر خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ یوسفزئی شرکت کریں گے۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اسپیکر کے چیمبر میں ملاقات سے انکار کیا ہے، تاہم کسی دوسرے مقام پر مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس سے پہلے رانا ثنااللہ نے غیر رسمی رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارچ جاری رکھنے کی صورت میں مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو بھی زیر غور قرار دیا۔
ڈان نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعظم اور صدر نے صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی پر بھی بات کی، لیکن پہلے مذاکرات کو موقع دینے پر اتفاق کیا۔ سرکاری بیانات میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
گوہر خان نے خبردار کیا کہ صوبے کے عوام کی مرضی کے خلاف مداخلت وفاق کو کمزور کرسکتی ہے۔ انہوں نے مارچ پُرامن رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات سننے پر زور دیا۔
علامہ ناصر عباس نے بھی غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کی۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں احتجاج کی تیاریاں جاری رہیں گی۔
ابھی مارچ کی منسوخی یا کسی سمجھوتے کا اعلان نہیں ہوا۔ جمعے کے مذاکرات اتوار کے احتجاج سے پہلے دونوں جانب کے مؤقف میں گنجائش پیدا کرنے کا موقع ہیں۔





