اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بدھ کو کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے اس تجویز کو صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال سے جوڑا اور خیبر پختونخوا حکومت پر سکیورٹی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں صوبائی حکومت کی ناکامی کے باعث آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر بات ہو رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ سے قبل وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔
وفاقی وزرا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں کو ممکنہ آئینی اقدامات کے طور پر زیر بحث لا چکے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اس حوالے سے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ نے بھی وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات میں اضافہ کیا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا کہ اگر گورنر راج کے معاملے پر ان کی جماعت سے مشاورت کی گئی تو پارٹی آئین اور قانون کے مطابق اپنی رائے دے گی۔ انہوں نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی زور دیا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے مجوزہ مارچ سے متعلق تنازع حل نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کا احتجاج پرامن ہوگا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھے گا۔
یہ بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب سکیورٹی پالیسی اور مجوزہ احتجاج کے معاملے پر وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ تاحال صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔





