بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول ہمالیائی سرحد پر طویل عرصے سے جاری تنازع پر چینی حکام کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے پیر کو بیجنگ پہنچے، کیونکہ نئی دہلی اپنے طاقتور پڑوسی کے ساتھ کشیدگی میں مزید کمی کی خواہش رکھتا ہے۔
سرحدی معاملے پر بھارت کے خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈوول منگل کو چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق، وہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران چینی نائب صدر ہان ژینگ سے بھی ملاقات کریں گے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک 2020ء کے مہلک فوجی تصادم کے بعد تعلقات میں ہونے والی تدریجی بہتری کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تصادم کے باعث دونوں کے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے تھے اور ان کی افواج کے درمیان طویل تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں فریقین اپنے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والی تفہیم کے مطابق سرحدی مسئلے پر ”تفصیلی بات چیت“ کریں گے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا بدستور پہلی ترجیح ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل تنازع شدہ سرحد ہے۔ ماضی میں دونوں فریقین ایک دوسرے پر سرحد پر موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
تازہ ترین گفتگو کی وسیع تر سفارتی اہمیت بھی ہے، کیونکہ بھارت 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ بھارتی حکام خواہش مند ہیں کہ چینی صدر شی جن پنگ اس اجلاس میں شرکت کریں، جہاں تجارت، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی نظام میں تبدیلیوں کے موضوعات گفتگو پر غالب رہنے کی توقع ہے۔
حالیہ مہینوں میں تعلقات میں بہتری کے کچھ آثار نمایاں ہوئے ہیں، جن میں براہِ راست پروازوں کی بحالی اور سرحدی تجارت کی بحالی کی جانب اقدامات شامل ہیں۔
تاہم بھارت اور چین کے درمیان بداعتمادی بدستور قائم ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے اروناچل پردیش میں دونوں ممالک کے فوجی دستوں کے مبینہ آمنا سامنا ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم بھارتی حکومت نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا۔
چین اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ برقرار رکھتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت اسے اپنی حدود میں شامل ریاست اور ملکی سالمیت کا حصہ قرار دیتا ہے۔
بیجنگ مذاکرات پر اس حوالے سے گہری نظر ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت سرحدی تنازع کے مستقل حل کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت کر سکتی ہے یا نہیں۔









