اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے معیشت کے تمام شعبوں میں ساختاتی اصلاحات کی شروعات کے لیے معاشی اصلاحات کمیٹی کی پیش رفت کا جائزہ لینے کی غرض سے دوپہر 2 بجے اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم یہ کمیٹی وزیر اعظم کو سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں میں مجموعی گورننس کی بہتری کے لیے حتمی شکل دیے گئے مجوزہ اقدامات پر بریفنگ دے گی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ کے علاوہ سول بیوروکریسی کے اعلیٰ حکام اور ریگولیٹری اداروں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
وزیر اعظم نے رواں سال جولائی میں معاشی گورننس کی بہتری اور معیشت کے اہم شعبوں کی نگرانی سخت کرنے کے لیے 15 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ یہ قدم ایک وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد اداروں، احتساب اور پالیسی میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ اقدام آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کی ان متواتر یاد دہانیوں کے بعد سامنے آیا ہے کہ پاکستان کا طویل مدتی معاشی استحکام نہ صرف قلیل مدتی استحکامی تدابیر بلکہ گورننس کی بنیادی اور گہری اصلاحات پر بھی منحصر ہے۔
یہ کمیٹی وزیر اعظم کو سہ ماہی رپورٹس پیش کرے گی، جن میں ہونے والی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور مزید درکار اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ کمیٹی کے ارکان میں سیکرٹری خزانہ، قانون، منصوبہ بندی اور اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ لا اینڈ جسٹس کمیشن اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نمائندے شامل ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی و ایف بی آر کے چیئرمین بھی اس کا حصہ ہیں۔








