کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہفتے کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون سے متعلق تحریری معاہدے کا مطالبہ کیا۔
کراچی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو سکیورٹی کے معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں اس کے اثرات ملک کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سمیت آئینی اقدامات پر غور کیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے ایسے اقدامات سے پہلے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ سے پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے دوران حکومت کو تحریک انصاف سے مذاکرات کی تجویز دی تھی۔ پی ٹی آئی نے اس سے قبل اپنا مارچ 27 ستمبر سے ملتوی کرکے 4 اکتوبر کر دیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
بلاول بھٹو نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون نہ ہونے کی صورت میں آئینی اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے کا مطالبہ کیا، جس کے تحت دونوں حکومتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طور پر کام کریں جبکہ سیاسی اختلافات کو الگ طور پر حل کیا جائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے، کیونکہ سیاسی استحکام سے حکام کو سکیورٹی اور حکمرانی کے معاملات پر توجہ دینے میں مدد ملے گی۔





