اسلام آباد: کبھی کبھی کسی شخص کی زندگی میں سب سے اہم سوال وہ ہوتا ہے جو ہم پوچھنے سے گھبرا جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں آج، 10 ستمبر کو، عالمی یوم انسداد خودکشی منایا جا رہا ہے۔ اس سال کی عالمی مہم کا مرکز خودکشی کے بارے میں بات کرنے کے انداز کو تبدیل کرنا اور لوگوں کو خاموشی کے بجائے گفتگو، سمجھ بوجھ اور مدد کی طرف لانا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی 2024 سے 2026 تک جاری مہم کا عنوان “خودکشی کے بارے میں سوچ بدلیں” ہے، جبکہ اس سال کا پیغام “گفتگو کا آغاز کریں” ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال سات لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھوتے ہیں۔ 2021 کے تخمینوں کے مطابق 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی موت کی تیسری بڑی وجہ تھی، جبکہ خودکشی کے واقعات کا 73 فیصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رپورٹ ہوا۔
ادارے کے مطابق خودکشی کے پیچھے عموماً ایک ہی وجہ نہیں ہوتی۔ سماجی تنہائی، امتیازی سلوک، رشتوں میں مشکلات، مالی پریشانی، بیماری، دائمی تکلیف اور تشدد سمیت مختلف حالات کسی شخص کو شدید ذہنی دباؤ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق روک تھام صرف اس وقت مدد فراہم کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے جب کوئی شخص شدید بحران سے گزر رہا ہو۔ خودکشی کی روک تھام میں ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا، سماجی بدنامی کم کرنا، نوجوانوں میں زندگی سے نمٹنے کی صلاحیتیں پیدا کرنا اور ایسے عوامل کو محدود کرنا بھی شامل ہے جو کسی بحران کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت خودکشی کو قابلِ روک تھام قرار دیتا ہے اور بروقت مدد اور مناسب تعاون کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
اس سال کا پیغام صرف ایک دن تک محدود نہیں۔ خودکشی سے متعلق سوچ بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ پریشانی کا اظہار کرنے والے شخص کو شرمندگی کے بجائے سننے والا ماحول ملے۔
کیونکہ بعض اوقات روک تھام کسی بڑے حل سے نہیں، صرف ایک سوال سے شروع ہوتی ہے: کیا آپ ٹھیک ہیں؟





