بانکاک: بحران سے دوچار امریکی طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس لنکن‘ کا عملہ سمندر میں نو ماہ سے زائد اور خلیج فارس میں چھ ماہ کی جنگی ڈیوٹی کے بعد آرام کی غرض سے تھائی لینڈ کے ساحلی شہر پٹایا پہنچ گیا۔ تقریباً 5,000 اہلکاروں پر مشتمل نِمٹز کلاس کے اس طیارہ بردار جہاز کو خلیج فارس سے اس وقت واپس بلانا پڑا جب جنگی تھکن اور شدید ذہنی دباؤ کے باعث متعدد اہلکاروں کی مین ڈیک سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوششوں کی خبریں منظرعام پر آئیں۔ ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں امریکی سپلائی ڈپوؤں اور اڈوں کی تباہی کے باعث خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں موجود جہازوں کے لیے رسد کا نظام شدید متاثر ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں سے تازہ خوراک، خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی شدید قلت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں۔
’لنکن‘ اس سال فروری میں خطے میں تعينات کیے گئے دوسرے کیریئر اسٹرائیک گروپ کا حصہ تھا، جسے انڈو پیسفک خطے سے ایران کے خلاف امریکی مہم میں شمولیت کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔ مہم کے آغاز میں امریکی بحری فضائی اثاثوں نے مبینہ ایرانی فوجی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیج فارس اور ارد گرد کے خطے میں امریکی رسد اور ریڈار اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ان اڈوں کی تباہی کے باعث امریکی سپلائی جہازوں کو عمان یا بحرین کے آسان اڈوں کے بجائے گوام کے امریکی بحری اڈے کا رخ کرنا پڑا، جہاں سے امریکی افواج ماضی میں رسد حاصل کرتی رہی ہیں۔
رسد کی مشکلات اور ایران کے سخت جواب کے باعث ’لنکن‘ خطے میں تو موجود رہا لیکن ایرانی میزائلوں کے خطرے کے پیش نظر اسے راست جنگی محاذ سے پیچھے ہٹا لیا گیا۔ مسلسل تعیناتی، وسائل کی کمی اور محفوظ شدہ خوراک کے استعمال نے اہلکاروں کو شدید متاثر کیا۔ افسران کو بغاوت کی باتیں پھیلنے کا خدشہ لاحق ہو گیا تھا، جس کے بعد فلائٹ ڈیک سے چھلانگ لگا کر دو اہلکاروں کی خودکشی کی کوششوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
امریکی بحریہ کے سابق معالج ڈاکٹر فلپ ہنٹ، جو تعیناتی سے جڑے ذہنی صحت کے مسائل کے علاج کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، نے غیر معینہ مدت کی توسیع کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بارے میں بتایا: ”اہلکار اضطراب اور شدید ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں... مجھے اس عملے کے لیے بہت دکھ ہو رہا ہے، یہ واقعی انتہائی المناک ہے۔“
سابق نیوی سیل میٹ بریکن نے ایک انٹرویو میں جہاز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”اگر آپ کی ڈیوٹی فلائٹ ڈیک پر نہیں ہے تو آپ بلاوجہ وہاں نہیں جا سکتے، کیونکہ وہ ایک خطرناک جگہ ہے جہاں ہر وقت تحرک رہتا ہے۔ آپ بنیادی طور پر ایک لوہے کے ڈبے میں قید ہوتے ہیں... اور ہفتوں آسمان دیکھے بغیر اسی کے اندر زندگی گزارتے ہیں۔“
تھائی لینڈ میں ’لنکن‘ کے عملے کے ساتھ اسٹرائیک گروپ کے دیگر دو جہازوں کا عملہ بھی شامل ہے—جن میں چونبوری کی سریراچا بندرگاہ پر موجود تباہ کن جہاز ’یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر‘ اور پڑوسی صوبے رایونگ کے ماپ تا پھت میں موجود کروزر جہاز ’یو ایس ایس رابرٹ سمالز‘ شامل ہیں۔ توقع ہے کہ ’لنکن‘ رواں ہفتے امریکہ میں اپنی بندرگاہ کی جانب روانہ ہو جائے گا۔





