واشنگٹن: ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی میزائل نے ہفتے کے روز ایران کے جزیرے خارگ کے قریب ایک چھوٹے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، تاہم واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کی اسٹوڈنٹ نیوز ایجنسی کے مطابق متاثرہ جہاز ایک چھوٹا بحری جہاز تھا۔ جزیرہ خارگ ایران کے تیل کی برآمدات کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے اور ملک کی تقریباً 90 سے 95 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی کے ذریعے ہوتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل جزیرے کا کنٹرول سنبھالنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے شروع کیے۔ ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
واشنگٹن اور تہران نے 18 جون کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی انتظامات پر اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اگست میں تقریباً 50 فوجی افسران اور سویلین حکام سے جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ لیے۔ یہ کارروائی امریکی اسلحے کے ذخائر سے متعلق خفیہ معلومات کے افشا کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق تحقیقات کا دائرہ جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ اہلکاروں تک تھا اور اس میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی کمی سے متعلق معلومات کے افشا کی تحقیقات کی گئیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق ایف بی آئی ان ٹیسٹوں میں شامل نہیں تھی اور تحقیقات فوج نے داخلی طور پر کیں۔ تمام اعلیٰ فوجی حکام کا ٹیسٹ نہیں لیا گیا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کو بھی اس عمل سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
سی بی ایس کے مطابق کسی اہلکار نے میڈیا کو معلومات افشا کرنے سے متعلق سوالات میں ٹیسٹ فیل نہیں کیا۔ تحقیقات میں اس امکان کا بھی جائزہ لیا گیا کہ محدود رسائی والی عسکری معلومات تک رسائی رکھنے والا کوئی سرکاری اہلکار غیر ملکی جاسوس کے طور پر کام کر رہا ہو۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ محکمہ داخلی اہلکاروں یا تحقیقات سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم خفیہ معلومات کے افشا کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کے پاس ہتھیاروں کی ’’بہت بڑی مقدار‘‘ موجود ہے۔ انہوں نے افشا ہونے والی معلومات کو غداری پر مبنی بیانات اور جعلی خبریں قرار دیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی۔
دریں اثنا، امریکی رکن کانگریس ٹیڈ لیو نے ایران کو ’’ناکام ریاست‘‘ قرار دینے کے ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایران ناکام ریاست ہے تو وہ امریکی اڈوں اور اتحادیوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیسے کر رہا ہے۔
لیو نے جنگ کے باعث امریکا میں پٹرول کی قیمتوں پر بھی سوال اٹھایا اور ایران میں جاری جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔
ادھر ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ کے لیے جنگ کے بعد کی حکمت عملی بھی تیار کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے اور ایران جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں امریکی پالیسی کی رہنمائی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے





