اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے ایک تاریخی اسلامی عبادت گاہ کے خلاف اس کارروائی پر جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریاست اتر پردیش میں سہارنپور کلکٹریٹ کی حدود میں واقع اس مسجد کو بھارتی حکام نے 5 ستمبر کو مسمار کیا تھا۔ یہ کارروائی عدالت کے اس فیصلے کے بعد کی گئی جس میں عمارت کو سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر قرار دینے کے حکم کو برقرار رکھا گیا تھا۔ مسجد کمیٹی کی جانب سے دائر اپیل خارج ہونے کے بعد کڑے سیکیورٹی انتظامات میں مسماری کی راہ ہموار ہوئی۔
اتوار کو میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان اس مسماری کی ”شدید مذمت“ کرتا ہے۔ انہوں نے مسجد کو ایک تاریخی اسلامی عبادت گاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بھارت میں اسلامی ورثے کو مٹانے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے 1992 میں بابری مسجد کی مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ واقعہ مذہبی عدم برداشت، تعصب اور نفرت کی ایک دیرپا علامت بنا ہوا ہے۔
سجاد حیدر خان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی حکام کی جانب سے مسلمانوں کے باقاعدہ استحصال اور ان کی عبادت گاہوں کی تباہی کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادیوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کو متاثر کرنے والے اقدامات پر بھارتی حکام کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق سہارنپور میں مسجد کی مسماری کا واقعہ ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کی جانب سے مسجد کی حیثیت سے متعلق سابقہ حکم کو برقرار رکھنے کے بعد پیش آیا۔ اس حکم کے خلاف مسجد کمیٹی کی اپیل رد کر دی گئی جس سے حکام کو مسماری کی کارروائی کا موقع ملا۔
یہ معاملہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سفارتی بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں اقلیتی برادریوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے باقاعدگی سے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
تازہ ترین تنازع پاکستان کے ضلع نارووال میں ہندو مندر سے متعلق ایک واقعے پر بھارت کی جانب سے کی گئی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ اس مندر کو جولائی میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں سے نقصان پہنچا تھا اور حکام نے اس مقام کا سروے کر کے اس کی بحالی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان کے تازہ بیان میں اپنے اس موقف کا اعادہ کیا گیا کہ اقلیتی برادریوں کی مذہبی آزادیوں اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔





