امریکی حکام نے چین کی ریاستی سرپرستی میں جاری ایک بڑی سائبر ہیکنگ کارروائی ناکام بنا دی ہے، جس کے ذریعے امریکی وزارتِ انصاف، ناسا، فیڈرل ریزرو اور امریکی سینیٹ سمیت متعدد اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی وزارتِ انصاف نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے "QScan" اور "QTRouter" نامی دو اہم ہیکنگ پلیٹ فارمز کو چلانے والے انٹرنیٹ ڈومینز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ عدالت میں پیش کیے گئے ایک حلف نامے کے مطابق، اس انفراسٹرکچر کے ذریعے کم از کم 2018 سے امریکہ اور دنیا بھر میں حساس نیٹ ورکس اور اہم تنصیبات میں سیندھ لگائی جا رہی تھی۔
عدالتی دستاویزات میں جن دیگر اداروں کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے ان میں امریکی وزارتِ توانائی، وزارتِ صحت و انسانی خدمات، نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ، اور امریکہ اور جنوبی کوریا میں قائم چار نجی ادارے شامل ہیں۔
وفاقی تفتیش کاروں نے اس سائبر حملے میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کو چین میں قائم کمپنی 'نانجنگ شن جیووے نیٹ ورک ٹیکنالوجی' سے جوڑا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کمپنی ایک ٹھیکیدار کی حیثیت سے کام کرتی ہے جو چینی وزارتِ ریاستی تحفظ اور پیپلز لبریشن آرمی سمیت دیگر ریاستی اداروں کو جارحانہ سائبر خدمات فراہم کرتی ہے۔
فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے تصدیق کی کہ اس کارروائی کے ذریعے "ایک ایسے عالمی بوٹ نیٹ اور ہیکنگ پلیٹ فارم کو تباہ کر دیا گیا ہے جسے چین کی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکرز امریکی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے"۔
سائبر سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ پیچیدہ سائبر حملوں کے لیے اکثر نجی ٹیک کمپنیوں پر انحصار کرتا ہے۔ سینٹینل ون سے وابستہ چین کے معاملات کے تجزیہ کار ڈکوٹا کیری نے اشارہ کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران تجارتی بنیادوں پر جارحانہ سائبر سروسز کی مارکیٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
واشنگٹن میں واقع چینی سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بیجنگ حکومت کی جانب سے کی جانے والی سائبر کارروائیوں میں ملوث ہونے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے اور غیر ملکی سرکاری نظاموں، افواج یا نجی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو رد کرتا آیا ہے۔





