اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 14 نومولود بچوں کی جان لینے والی مہلک آتشزدگی کے بعد کیپیٹل ہسپتال اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک میں فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ جمعرات کو سی ڈی اے کے معائنے میں دونوں ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ، ہنگامی ردعمل اور انخلا کے انتظامات میں بڑی کمیاں سامنے آئیں۔
پمز ہسپتال میں معائنے کے دوران بلاک 1 سے 6 کے علاوہ پلانٹ روم، فارمیسی، کیفے ٹیریا، گیراج، جنریٹر اور الیکٹریکل پینلز کا جائزہ لیا گیا۔ سی ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں "آگ سے تحفظ، انسانی زندگی کی حفاظت اور ہنگامی تیاریوں کے نظام میں نمایاں خامیوں" کا انکشاف ہوا ہے۔ متعدد بلاکس میں دھواں کنٹرول کرنے کا سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ ہنگامی خروج کے راستوں پر فائر ریٹڈ دروازے غائب تھے۔ علاوہ ازیں، ہنگامی سیڑھیاں اور انخلا کے راستے بھی غیر تسلی بخش قرار دیے گئے۔
ہسپتال میں آگ پر قابو پانے کا کوئی مخصوص کنٹرول روم موجود نہیں تھا، جبکہ آگ بجھانے والے آلات یا تو ایکسپائرڈ تھے، غلط طریقے سے نصب تھے یا ان کی تعداد ناکافی تھی۔ اس کے علاوہ مناسب ہنگامی روشنی اور 24 گھنٹے تربیت یافتہ عملے کی عدم موجودگی بھی پائی گئی۔ رپورٹ میں زیر زمین واٹر ٹینک اور پمپس کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ اِنٹینسیو کیئر یونٹس اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس شعبوں میں آگ کو پھیلنے سے روکنے کی مناسب تدابیر کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی۔
سیکٹر G-6 میں واقع فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک میں سی ڈی اے نے آگ اور جانی تحفظ سے متعلق 34 خامیوں کی نشاندہی کی۔ متعدد ہنگامی راستے یا تو موجود ہی نہیں تھے، بند تھے یا ان میں رکاوٹیں کھڑی تھیں۔ ہسپتال میں آگ کا پتہ لگانے کے الارم، اسپرنکلر سسٹمز اور فائر فائٹنگ کے لیے پانی کے پائپوں اور پمپس کے مناسب انتظامات بھی نہیں تھے۔
رپورٹ میں الیکٹریکل وائرنگ کی حالت کو "انتہائی ناقص" قرار دیا گیا اور مرکزی باورچی خانے کے قریب گیس لیکج کی نشاندہی کی گئی۔ سی ڈی اے کو آتشزدگی کی صورت میں انتہائی نگہداشت کے شعبوں (آئی سی یو)، کارڈیک کیئر اور این آئی سی یو (نومولود کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ) سے شدید بیمار مریضوں کو نکالنے کے انتہائی ناقص انتظامات ملے۔ اتھارٹی نے دونوں ہسپتالوں کو ہدایت کی کہ وہ ان خامیوں کو فوری طور پر دور کریں، انخلا کا نظام بہتر بنائیں، فائر ڈیٹیکشن اور فائر فائٹنگ آلات نصب کریں، ہنگامی لائٹنگ فراہم کریں اور عملے کو آگ بجھانے کی تربیت دیں۔ تمام اصلاحی اقدامات کی تکمیل کے بعد فائر سیفٹی کے قواعد و ضوابط کی پاسداری کا جائزہ لینے کے لیے دونوں ہسپتالوں کا دوبارہ معائنہ کیا جائے گا۔





