جنیوا: اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت مقرر کردہ عالمی درجۂ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس اضافے کی حد تجاوز ہونے کا امکان ہے، اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ اس متوقع اضافے کی شدت اور دورانیے کو محدود کیا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا آئندہ چند برسوں میں 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کر سکتی ہے، کیونکہ خام تیل سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں عالمی حدت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔
یہ حد کسی ایک سال میں ریکارڈ کیے جانے والے درجۂ حرارت کے بجائے صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں طویل مدتی اوسط درجۂ حرارت میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
1.5 ڈگری سیلسیس کا ہدف 2015 کے پیرس معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین ترین اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، نئی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ درجۂ حرارت میں اضافے کو مستقل طور پر اس حد سے نیچے رکھنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اضافی حدت میں ہر ممکن کمی موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کو محدود کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں جائزہ لیے گئے سب سے پُرامید منظرنامے کے تحت، اگر ممالک مؤثر اور بلند ہمت ماحولیاتی پالیسیاں اپناتے ہیں تو صدی کے وسط تک عالمی درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.8 ڈگری سیلسیس تک بڑھ کر بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ پالیسیوں کے تحت 2100 تک درجۂ حرارت میں تقریباً 2.6 ڈگری سیلسیس اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں ممکنہ طور پر ایک ایسے دور کی نشاندہی کی گئی ہے جسے ’اوور شوٹ‘ کہا جاتا ہے، جس میں درجۂ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنے کے بعد بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں اور اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ درجۂ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو ممکنہ حد تک کم رکھا جائے، 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر رہنے کا دورانیہ مختصر کیا جائے اور بالآخر درجۂ حرارت دوبارہ اس حد سے نیچے لایا جائے۔
اس طرح کے اوور شوٹ کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں شدید موسمی حالات، سطحِ سمندر میں اضافے، گلیشیئرز اور برفانی چادروں کے پگھلنے، غذائی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے خبردار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ناقابلِ واپسی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں بڑی برفانی چادروں کا خاتمہ، ایمیزون کے بارانی جنگلات کو نقصان اور بحرِ اوقیانوس کے سمندری بہاؤ میں خلل شامل ہیں۔
یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا کہ 1.5 ڈگری سیلسیس کا ہدف اب بھی برقرار ہے، تاہم حکومتوں کو اب اس ہدف کے حصول کے لیے اپنا طریقۂ کار تبدیل کرنا ہوگا۔ رپورٹ میں موسمیاتی موافقت کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے، کیونکہ حدت کے بعض اثرات کو اب روکا نہیں جا سکتا۔
درجۂ حرارت کو دوبارہ 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے لانے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی کے ساتھ ساتھ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی ضروری ہوگا۔ رپورٹ میں شجرکاری اور جنگلات کی بحالی کو ایک ممکنہ طریقہ قرار دیا گیا ہے، تاہم کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اکیلا کافی نہیں ہوگا، جس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے والی دیگر ٹیکنالوجیز کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
رپورٹ یہ تاثر نہیں دیتی کہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کرنا کوئی ایسا حتمی مرحلہ ہے جس کے بعد موسمیاتی اقدامات مؤثر نہیں رہیں گے۔ اس کے بجائے سائنس دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حدت میں ہر اضافی معمولی اضافے کو محدود کرنا بھی خطرات اور نقصانات میں کمی لا سکتا ہے۔
یہ نتائج موسمیاتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں اوور شوٹ کو ہر قیمت پر روکنے کے بجائے اس کی شدت محدود کرنے، ناگزیر اثرات سے نمٹنے اور بالآخر عالمی حدت کو واپس کم کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
درجۂ حرارت کو کس حد تک اور کتنی تیزی سے دوبارہ کم کیا جا سکتا ہے، اس کا انحصار بڑی حد تک عالمی سطح پر اخراج میں کمی کی رفتار اور کاربن کے اخراج کو جذب یا ختم کرنے کی کوششوں کی مؤثریت پر ہوگا۔





