واشنگٹن: اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’فلسطین ایکشن‘ گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق فولکر ترکر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ”آزادیٔ اظہار، پرامن اجتماع، تنظیم سازی اور عوامی امور میں شرکت کے حقوق پر غیر ضروری پابندی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”لفظ ’دہشت گردی‘ کے وسیع پیمانے پر استعمال سے شہری آزادیوں کی فضا پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔“
یہ پیش رفت امریکہ کی جانب سے 26 اگست کو فلسطین ایکشن کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے بعد سامنے آئی ہے، جب واشنگٹن نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے تحت بائیں بازو کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل جولائی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ واشنگٹن عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی ترجیحات کا رخ ”انتہا پسند بائیں بازو کی دہشت گردی“ کی طرف موڑنا چاہتا ہے۔
فلسطین ایکشن برطانیہ میں قائم ایک ڈائریکٹ ایکشن تحریک ہے جس کی بنیاد 2020 میں رکھی گئی تھی۔ یہ تنظیم ان بین الاقوامی کوششوں اور شراکت داریوں کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے جو اسرائیل کے نسل کشی اور اپارتھائیڈ پر مبنی نظام کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔ فلسطین ایکشن بنیادی طور پر احتجاجی طریقے اپنا کر اسرائیلی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی سہولت کار کمپنیوں کو نشانہ بناتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ کمپنیاں فلسطینیوں پر مظالم سے منافع نہ کما سکیں۔
فلسطین ایکشن کا بنیادی ہدف ’البٹ سسٹمز‘ ہے، جو اسرائیل کی ایک بین الاقوامی ملٹری ٹیکنالوجی کمپنی، دفاعی ٹھیکیدار اور اسرائیل کے لیے ہتھیار بنانے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم اس کمپنی سے منسلک دیگر اداروں اور کمپنیوں کی بندش کے لیے بھی مہم چلاتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جون 2025 میں برطانیہ کی شاہی فضائیہ کے ایک اڈے میں داخل ہونے کے فوراً بعد برطانوی حکومت نے بھی اس احتجاجی نیٹ ورک پر پابندی عائد کر دی تھی۔ برطانیہ کی جانب سے پابندی کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور حکام نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
اقوام متحدہ کے ممتاز حکام اور سینئر دانشوروں نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد بظاہر اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل نے امریکہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔





