لندن: برطانیہ نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض فوج اور حکومت فلسطینیوں کی "نسلی کشی" سے آنکھیں چرائے ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ برطانیہ میں عوامی اور سیاسی سطح پر ایک طویل بحث کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ غزہ میں نسل کشی کے آغاز کو تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔
وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام فلسطین کے تنازع کے حوالے سے "ایک نئی حکمت عملی کے آغاز" کی نشاندہی کرتا ہے، جو "نہ صرف ناانصافی اور مظالم کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عملی قدم بھی اٹھاتا ہے۔" ان پابندیوں کے تحت نہ صرف بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی ہوگی بلکہ ان کو سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
جواب میں اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون سار نے برطانوی وزیر خارجہ پر "شرمناک جھوٹ" پھیلانے کا الزام عائد کیا اور جواب کارروائی کے طور پر مشرقی یروشلم میں برطانیہ کے قونصل خانے کو بند کرنے سمیت دیگر اقدامات کا اعلان کیا۔
یہ پابندیاں بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ انہیں خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف بھی نافذ ہوں گی۔ رواں سال جون میں سر کیئر اسٹارمر کی جگہ سنبھالنے والے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ فلسطین پر برطانوی پالیسی کا جائزہ لیں گے اور ان کی جماعت سے غزہ کے معاملے پر "غلطی" ہوئی تھی، اور انہوں نے پچھلے تین سالوں میں شدید ناپسند کی جانے والی غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف مزید اقدام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
یہ پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر عائد کی گئی ہیں، جنہوں نے برطانیہ کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ قدم "دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ہماری حکمت عملی میں ایک نیا سنگ میل ہے۔"
بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، اور حالیہ مہینوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ نے کہا: "برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے علاقوں میں دہشت گرد آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی نسلی کشی کی جا رہی ہے۔"





