واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو چینی صدر شی جن پنگ کو واشنگٹن میں نیشنل آرکائیوز لے جائیں گے، جہاں دونوں رہنما وائٹ ہاؤس میں تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور سلامتی کے خطرات پر بات چیت کے بعد سرکاری دورے کے دوسرے روز کی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
دونوں رہنماؤں کو امریکی اعلان آزادی، آئین اور حقوق کا بل دکھائے جانے کی توقع ہے۔ یہ تینوں دستاویزات امریکا کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
یہ دورہ جمعرات کو ہونے والی وائٹ ہاؤس ملاقات کے بعد ہورہا ہے، جس میں ٹرمپ اور شی نے دونوں بڑی عالمی معیشتوں کے تعلقات اور اسٹریٹجک اختلافات کو سنبھالنے کے طریقوں پر گفتگو کی۔
مصنوعی ذہانت مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔ واشنگٹن نے ایک ایسے اطلاعی نظام کی تجویز پیش کی ہے جس کے ذریعے دونوں حکومتیں قومی سلامتی کو متاثر کرنے والے مصنوعی ذہانت سے متعلق سنگین واقعات کی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرسکیں۔
یہ نظام کسی مصنوعی ذہانت کے نظام سے منسلک سائبر حملے، بنیادی ڈھانچے میں خلل یا کسی بڑے سکیورٹی واقعے کی صورت میں ہنگامی رابطے کے ذریعے کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔
دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت پر بات چیت جاری رکھنے کی حمایت کی ہے، تاہم مجوزہ نظام کے قیام سے متعلق کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا۔





