واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کر رہے ہیں۔ مذاکرات کا مقصد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود تعلقات میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کی شام جوائنٹ بیس اینڈریوز پر شی جن پنگ کا استقبال کیا۔ 11 سال میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی امریکی صدر نے اس فوجی اڈے پر کسی غیر ملکی رہنما کا خود استقبال کیا۔
یہ رواں سال ٹرمپ اور شی جن پنگ کی دوسری ملاقات اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں چینی صدر کا پہلا دورہ واشنگٹن ہے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ بیجنگ اور واشنگٹن کو حریفوں کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مزید مستحکم تعلقات کی امید بھی ظاہر کی۔
مذاکرات میں تجارت کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کارتجارتی راہداری کو 10 جنوری تک بڑھانے کی کوشش پر متفق ہوئے ہیں۔
تجارتی راہداری ایک عارضی انتظام ہوتا ہے جس کے تحت ممالک مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ٹیرف اور دوسری تجارتی پابندیاں روک دیتے ہیں یا ان میں کمی کرتے ہیں۔ ٹیرف درآمدی اشیا پر عائد کیا جانے والا ٹیکس ہے۔
امریکا اور چین نے اپنے تجارتی تنازع کے دوران ایک دوسرے کی مصنوعات پر 100 فی صد سے زیادہ ٹیرف عائد کیے تھے۔ بعد میں دونوں حکومتوں نے بعض اقدامات عارضی طور پر معطل کر دیے۔ موجودہ انتظام





